Become a member

Get the best offers and updates relating to Liberty Case News.

― Advertisement ―

spot_img
Homeبریکنگ نیوزمحکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب میں اثر و رسوخ اور اقربا پروری کا...

محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب میں اثر و رسوخ اور اقربا پروری کا راج، درجنوں بااثر افسران سیکریٹریٹ پر قابض

محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب میں اثر و رسوخ اور اقربا پروری کا راج؛ ڈیپوٹیشن اور ٹیکنیکل کوٹے کی مدت ختم ہونے کے باوجود درجنوں بااثر افسران سیکریٹریٹ پر قابض، بعض ڈپٹی سیکرٹری محکمہ کی بد نامی کا باعث بھی بننے لگے ہیں

سابق ارکانِ اسمبلی، بیوروکریٹس اور بااثر شخصیات کے بیٹوں اور چہیتوں کو نوازنے کا انکشاف؛ ایس اینڈ جی اے ڈی کے احکامات ہوا میں اڑا دیے گئے

لاہور (ساجد چودھری)

محکمہ ہائر ایجوکیشن ڈیپاٹمنٹ (HED) پنجاب کا سیکریٹریٹ اس وقت من پسند تعلیمی افسران کی طویل ترین تعیناتیوں، سفارشی کلچر اور اقربا پروری کا گڑھ بن چکا ہے۔ ایس اینڈ جی اے ڈی (S&GAD) کے مروجہ قوانین (جس کے تحت ٹیکنیکل کوٹہ یا ڈیپوٹیشن کی مدت عام طور پر تین سال ہوتی ہے اور اس میں توسیع کیس ٹو کیس بنیاد پر کی جاتی ہے) کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے کئی افسران آرڈرز کی مدت ختم ہونے کے باوجود اہم ترین سیٹوں پر براجمان ہیں۔یہی افسران اپنی من مانیاں کرتے ہوے بعض کیسز میں رشوت وصول کر کے افسران کو مس گائیڈ کر کے محکمہ کی بد نامی کا باعث بن رہے ہیں

 گورنمنٹ کالج ٹاؤن شپ لاہور  میں تعینات شدہ اسسٹنٹ پروفیسر آف اردو عثمان ابراہیم 2018 سے مسلسل ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں جمے ہوئے ہیں۔ وہ اس وقت مروجہ قوانین کے برعکس بیک وقت دو انتہائی اہم عہدوں—ڈپٹی سیکریٹری (بجٹ اینڈ فنانس) اور ڈپٹی سیکریٹری (اسٹیبلشمنٹ میل)—کا چارج سنبھالے ہوئے ہیں۔ عثمان ابراہیم نے مبینہ طور پر اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے سگے بھائی، اسسٹنٹ پروفیسر آف اردو وقاص احمد کو ڈیپوٹیشن پر ڈپٹی سیکریٹری، تعلیمی بورڈ (BISE) لاہور تعینات کروایا ہے

محکمے میں طویل ترین تعیناتی کا ریکارڈ اسسٹنٹ پروفیسر اشتیاق احمد نے قائم کیا ہے، جو اس وقت تقرری کے منتظر (Awaiting Posting) ہونے کے باوجود 2013 سے مسلسل HED سیکریٹریٹ کا حصہ ہیں۔ اس دوران وہ صرف تین سال (2022 سے 2025) کے لیے بطور رجسٹرار یونیورسٹی آف چکوال تعینات رہے، جبکہ وہ پی ٹی آئی کے سابق وزیرِ ہائر ایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں کے پی ایس او (PSO) بھی رہ چکے ہیں۔ اب انہیں ڈپٹی سیکریٹری (اسپیشل انیشی ایٹوز) کے عہدے پر نوازا گیا ہے۔ اسی طرح، اسسٹنٹ پروفیسر پولیٹیکل سائنس انعام شاہ (اصل تعیناتی گورنمنٹ کالج رائے ونڈ) 2015 سے مسلسل سیکریٹریٹ میں موجود ہیں۔ وہ سابق وزیر سید رضا علی گیلانی کے پی ایس او رہے اور اب وہ مروجہ طریقہ کار کے برعکس (جہاں S&GAD ریگولر اسٹاف فراہم کرتا ہے) وزیر ایچ ای ڈی کے پی ایس او اور ڈپٹی سیکریٹری (یونیورسٹیز) کے دوہرے عہدوں پر کام کر رہے ہیں

تحقیقات کے مطابق، S&GAD کی جانب سے بھیجے گئے متعدد افسران اپنے احکامات کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی غیر قانونی طور پر کام کر رہے ہیں

محمد تابش (لیکچرار/ ایس او بورڈز) سابق بیوروکریٹ اور سابق ممبر پی پی ایس سی نصیر احمد کے بیٹے ہیں، جو 2021 سے ٹیکنیکل کوٹے پر یہاں براجمان ہیں۔

محمد عرفان (اسسٹنٹ رجسٹرار) پنجاب اسمبلی کے سابق سیکریٹری عنایت اللہ لک کے فرزند ہیں، جو 2022 سے ٹیکنیکل کوٹے پر بطور ایس او کام کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر صائمہ انور دھمیال (اسسٹنٹ پروفیسر) یونیورسٹی آف گجرات کی گریڈ 19 (BS-19) کی افسر ہیں، لیکن وہ 2021 سے جونیئر پوسٹ یعنی ڈپٹی سیکریٹری یونیورسٹیز (BS-18) پر کام کر رہی ہیں اور ان کے حوالے سے بھی کہا جارہا کہ مبینہ طور پر انکے آرڈرز کی مدت بھی ختم ہو چکی ہے۔

محمد آصف (پنجاب لوکل فنڈ آڈٹ ڈپارٹمنٹ) یہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ACS) پنجاب احمد رضا سرور کے قریبی دوست بتائے جاتے ہیں اور 2022 سے بطور ڈپٹی سیکریٹری کام کر رہے ہیں

سرگودھا سے تعلق رکھنے والے لیکچرار بابر گونڈل (ایس او جنرل، HED) 2018 سے مسلسل یہاں تعینات ہیں اور ان کے ٹیکنیکل کوٹے کے احکامات کی مدت بھی ختم ہو چکی ہے، ذرائع کے مطابق ان کی پشت پر ساجد ظفر ڈال کا ہاتھ ہے۔ اس کے علاوہ ایم اے او کالج کے لیکچرار لائبریری سائنس ظہیر علی (ایس او یونیورسٹیز) بھی اس موجودہ سیٹ اپ کا مضبوط حصہ ہیں۔ وہ 2018 سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں، درمیان میں کچھ ماہ کے لیے ان کا ٹیکنیکل کوٹہ ختم کیا گیا تھا لیکن انہوں نے مبینہ طور پر دوبارہ اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے HED سیکریٹریٹ میں واپسی کا راستہ بنا لیا ان کیخلاف ایک خاتون وائس چانسلر نے  ماضی  میں رشوت مانگنے کا الزام بھی لگایا تھا

اعلیٰ تعلیمی اور عوامی حلقوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور چیف سیکریٹری سے مطالبہ کیا ہے کہ ہائر ایجوکیشن سیکریٹریٹ میں سالہا سال سے قابض اس لابی کا خاتمہ کیا جائے اور کالجوں کے اساتذہ کو دوبارہ تدریسی میدان میں واپس بھیجا جائے تاکہ میرٹ کی بالادستی قائم ہو سکے۔