spot_img

ذات صلة

جمع

زرعی یونیورسٹی پشاور،انڈرگریجویٹ اور سکولوں میں داخلوں کا شیڈول جاری

پشاور (ایجو کیشن رپورٹر) زرعی یونیورسٹی پشاور نے انڈرگریجویٹ...

اسپیشل ایجوکیشن کمپلیکس پشاور میں ربیع الاول تقریب کا انعقاد

مہمانِ خصوصی مفتی اظہر نے سیرتِ طیبہ پر روشنی...

پنجاب کے تمام 9 تعلیمی بورڈز 2 ستمبر کو نویں جماعت کے نتائج کا اعلان کریں گے، لاکھوں طلبہ کا انتظار ختم

پنجاب کے تمام 9 تعلیمی بورڈز 2 ستمبر کو نویں جماعت کے نتائج کا اعلان کریں گے: ہزاروں طلبہ کا انتظار ختم

لاہور (ساجد چودھری) لاہور بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن سمیت پنجاب بھر کے تمام 9 تعلیمی بورڈز نے نویں جماعت (ایس ایس سی پارٹ ون) کے سالانہ امتحانات 2026ء کے نتائج کا باضابطہ اعلان 2 ستمبر 2026ء کو کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد صوبے بھر کے ہزاروں طلبہ و طالبات کا انتظار ختم ہو جائے گا۔

پنجاب کے تمام 9 تعلیمی بورڈز شامل ہیں:

  1. لاہور بورڈ (BISE Lahore)

  2. راولپنڈی بورڈ (BISE Rawalpindi)

  3. گوجرانوالہ بورڈ (BISE Gujranwala)

  4. فیصل آباد بورڈ (BISE Faisalabad)

  5. ملتان بورڈ (BISE Multan)

  6. سرگودھا بورڈ (BISE Sargodha)

  7. بہاولپور بورڈ (BISE Bahawalpur)

  8. ساہیوال بورڈ (BISE Sahiwal)

  9. ڈی جی خان بورڈ (BISE DG Khan)

نتیجہ معلوم کرنے کا طریقہ کار:

  • آن لائن پورٹل: طلبہ اپنے متعلقہ بورڈ کی آفیشل ویب سائٹ پر جا کر اپنا رول نمبر درج کر کے رزلٹ کارڈ دیکھ سکتے ہیں۔

  • ایس ایم ایس (SMS) سروس: ویب سائٹ پر ٹریفک کے دباؤ کی صورت میں طلبہ اپنے اپنے بورڈ کے مخصوص ایس ایم ایس کوڈ پر اپنا رول نمبر بھیج کر فوری نتیجہ حاصل کر سکتے ہیں۔

حکومتی ہدایات اور تنبیہ:

تمام تعلیمی بورڈز کی جانب سے طلبہ اور ان کے والدین کو تاکید کی گئی ہے کہ نتائج کے حصول کے لیے صرف سرکاری اور مصدقہ ذرائع ہی استعمال کریں۔ نتائج کے موقع پر سوشل میڈیا اور غیر متعلقہ ویب سائٹس پر پھیلائے جانے والے جعلی لنکس اور غلط معلومات سے ہوشیار رہیں۔

تعلیمی مستقبل کے لیے اہم سنگِ میل:

نویں جماعت کا نتیجہ طلبہ کی میٹرک کی تعلیمی کامیابی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اس سے طلبہ کو ایس ایس سی پارٹ ٹو (دسویں جماعت) کے حتمی امتحانات سے قبل اپنے کمزور مضامین اور صلاحیتوں کی نشاندہی کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ اسکول انتظامیہ بھی اپنے تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے کی حکمت عملی ترتیب دے سکے گی۔