لاہور (ایجو کیشن رپورٹر)یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں وائس چانسلر اور ہائر ایجو کیشن ڈیپارٹمنٹ کی ملی بھگت سے جعلی‘ ڈگری ہولڈر کی مستقل رجسٹرار تعیناتی کا فیصلہ، متعدد انکوائریوں کو پس پشت ڈال کر ایڈیشنل رجسٹرار جمیل عقصم کو مستقل رجسٹرار تعینات کیا جاۓ گا۔جمیل عاصم کی جانب سے فراہم کر دہ جعلی
ماسٹر ان آئی ٹی کی ڈگری پمسیٹ یونیورسٹی کراچی(PIMSAT KARACHI) کے لاہور کیمپس سے لی گئی جبکہ موصوف کیخلاف یونیورسٹی کی طالبہ کو ہراساں کرنے کا کیس بھی ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے
یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں اقربا پروری اور مبینہ بدعنوانی کا ایک نیا سکینڈل سامنے آگیا ہے جہاں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور وائس چانسلر کی ملی بھگت سے ایک ایسے ایڈیشنل رجسٹرار کو مستقل رجسٹرار تعینات کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں جن کی ڈگری جعلی ہے اور اس حوالے سے وائس چانسلر سجاد مبین اور ہائرایجو کیشن ڈیپارٹمنٹ کی ملی بھگت سے اسکی انکوائریاں التوا کا شکار ہیں۔

ذرائع کے مطابق جمیل عاصم کے پاس پمسیٹ یونیورسٹی لاہور کیمپس سے لی گئی ’ماسٹر ان آئی ٹی‘ کی ریگولر ڈگری ہے، تاہم حیرت انگیز انکشاف یہ ہوا ہے کہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق ڈگری کے حصول کے دوران موصوف نے ڈیوٹی سے ایک دن کی بھی رخصت نہیں لی تھی۔
علاوہ ازیں پمسیٹ یونیورسٹی لاہور کیمپس کو لاہور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ پہلے ہی غیر قانونی قرار دے چکی ہیں اور عدالتوں نے متاثرہ طلبہ کو فیسوں کی واپسی کے لیے نیب سے رجوع کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ ایک ایسے کیمپس کی ڈگری جو کہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ سے غیر قانونی قرار پا چکا ہے اسکی ڈگری کی بنیاد پر اتنے اہم عہدے پر تعیناتی نے ہائر ایجو کیشن ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
یاد رہے کہ موصوف نے اپنے خلاف ہائر ایجو کیشن ڈیپارٹمنٹ میں جعلی ڈگری کے حوالے سے چلنے والی انکوائریوں کو دبانے کے لیےمبینہ طور پر بعض اعلی افسران کی جیب بھر کر انکو راضی رکھا ہوا ہے اور انہیں اس یونیورسٹی کی سپریم کورٹ میں ریویو پٹیشن التوا ہے کا بتا کہ معاملہ دبا رکھا ہے حالانکہ سپریم کورٹ کی اس ریویو پٹیشن کا قانونی طور پرعاصم جمیل سے دور کا تعلق بھی نہیں ہے اور وہ اس میں فریق بھی نہیں ہیں ۔
جمیل عاصم محض جعلی ڈگری کے الزامات تک ہی محدود نہیں ہیں، بلکہ ان پر وائس چانسلر کی جانب سے ثنا نامی خاتون کیساتھ زنا کاری کے کیس میں بھی ثنا نامی خاتون کے دعوے کے مطابق عاصم جمیل بھی جب اسکے ساتھ وقوعہ ہوا موجود تھے جبکہ ان پر اوکاڑہ یونیورسٹی کی ایک طالبہ کو ہراساں کرنے کا سنگین الزام بھی عائد ہے۔ اس حوالے سے ہائیکورٹ میں رٹ بھی دائر ہے یونیورسٹی کے حلقوں اور سول سوسائٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ ایک داغدار ماضی اور جعلی ڈگری کے حامل شخص کو مستقل رجسٹرار
لگا کر یونیورسٹی کے مستقبل سے نہ کھیلا جائے اور انہیں فوری نوکری سے نکالا جاۓ۔
ایڈیشنل رجسٹرار یونیورسٹی آف اوکاڑہ جمیل عاصم سے انکی جعلی ڈگری کے حوالے سے ان کا موقف جاننے کے لیے رابط کیا گیا تو انہوں نے موقف دینے کی بجاۓ خبر رکوانے کے لیےسفارشیں کروانی شروع کر دی

سیکرٹری ہائر ایجو کیشن غلام فرید سے جمیل عاصم ایڈیشنل رجسٹرار یونیورسٹی آف اوکاڑہ کی ڈگری کے حوالے سے ایچ ای ڈی میں انکوائری ردی کی نظر کرنے پر انکا موقف جاننے کے لیے رابط کیا گیا تو انکا آفیشل نمبر بند ملتا رہا جبکہ انکے واٹس اپ پر بھی ان سے رابط نہ ہو سکا۔وہ جمیل عاصم کی جعلی ڈگری کے حوالے ہائر ایجو کیشن ڈیپارٹمنٹ کے افسران کی جانب سے معاملہ دبانے بارے اپنا موقف دینا چاہیں تو وہ من وعن شائع کیا جاۓ گا

جبکہ گورنر \چانسلر پنجاب سردار سلیم حیدر سے بھی یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں جعلی ڈگری پر تعینات ایڈیشنل رجسٹرار جمیل عاصم جسے اب ہائر ایجو کیشن ڈیپارٹمنٹ اور وائس چانسلر سجاد مبین کی ملی بھگت سے مستقل رجسٹرار تعینات کیا جارہا ہے بارے صورت حال سے آگاہ کرنے کے لیے اور انکا موقف جاننے کے لیے رابط کیا گیا لیکن لاہور میں موجود نہ ہونے کے باعث ان سے رابط نہ ہو سکا ہے

