spot_img

ذات صلة

جمع

جامعہ پشاور، 100 سے زائد لیکچرارز کی اگلی گریڈز میں ترقیاں، نوٹیفکیشن جاری

پشاور (ایجو کیشن رپورٹر) جامعہ پشاور میں طویل عرصے سے...

خواتین کو ہراساں کرنا نا قابلِ سزا جرم ہے، صوبائی خاتون محتسب ڈاکٹر نجمہ افضل خان

جن اداروں میں خواتین کام کرتی ہیں وہاں انکوائری کمیٹیاں بنائی جائیں؛ اسلامیہ یونیورسٹی میں آگاہی سیمینار سے خطاب

بہاولپور (سپیشل رپورٹر)

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں خواتین کے حقوق اور جائے روزگار پر ان کے تحفظ کے حوالے سے ایک خصوصی آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں صوبائی خاتون محتسب پنجاب ڈاکٹر نجمہ افضل خان نے بحیثیت مہمانِ خصوصی شرکت کی۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نجمہ افضل خان نے کہا کہ خواتین کو ہراساں کرنا جرم ہے اور ان کا ادارہ خواتین کے تحفظ کے لیے متحرک انداز میں کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورک پلیس (جائے ملازمت) پر خواتین کو ہراساں کرنا ناقابلِ سزا جرم ہے، لہٰذا ہر ادارے میں ہراسمنٹ کمیٹی کی تشکیل دی جاتی ہے جو تین افراد پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس ادارے سے خواتین کو فوری ریلیف فراہم کیا جاتا ہے جبکہ مرد یا خاتون، ہراسمنٹ کے خلاف اس ادارے سے رجوع کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو سازگار اور تحفظ والا ماحول فراہم کیا جائے تاکہ وہ آسانی سے کام کر سکیں، ہمارے افراد اداروں میں جا کر ان کمیٹیوں کی ٹریننگ کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کوڈ آف کنڈکٹ کو جہاں خواتین کام کرتی ہیں وہاں آویزاں کرنا ضروری ہے اور ہمارے ادارے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان مقامات کو چیک کرے۔

تقریب سے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے اپنے خطاب میں کہا کہ خواتین کے حقوق اور تحفظ کا تصور اسلام نے چودہ سو برس پہلے ہی دے دیا تھا، عورت کو سماجی، معاشی اور قانونی حق و تحفظ اس وقت مل گیا تھا جب حضرت محمد ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی میں ‘سینٹر برائے اینٹی ہراسمنٹ اینڈ ڈسکریمینیشن کمیٹی’ قائم ہے جہاں شکایات پر فوری کارروائی کی جاتی ہے۔

spot_imgspot_img