میلسی (ایجو کیشن رپورٹر) میلسی کے نواحی علاقے چک نمبر 145 ڈبلیو بی میں طالبات کو اعلیٰ تعلیم کی مقامی سہولت فراہم کرنے کے لیے شروع کیا گیا "گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج فار گرلز دوکوٹہ” کا منصوبہ 4 سال گزرنے کے باوجود نا مکمل اور غیر فعال ہے۔ سرکاری وسائل سے کروڑوں روپے خرچ کیے جانے کے باوجود عمارت تعلیمی سرگرمیوں کے لیے دستیاب نہیں ہو سکی، جس سے علاقے کی ہزاروں طالبات اور ان کے والدین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
دستیاب سرکاری ترقیاتی ریکارڈ کے مطابق، 18 کروڑ 90 لاکھ 80 ہزار روپے کی ابتدائی لاگت سے اس کالج کا منصوبہ 27 جولائی 2021ء کو منظور کیا گیا تھا اور 25 ستمبر 2022ء کو پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں اس کا سنگِ بنیاد رکھا گیا تھا۔
منصوبے کا آغاز ہوئے تقریباً 4 سال گزر چکے ہیں، لیکن مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث زیرِ تعمیر عمارت رفتہ رفتہ خراب ہونے لگی ہے۔ عمارت کے شیشے ٹوٹنا شروع ہو چکے ہیں، جبکہ بجلی کی فراہمی کے لیے نصب کیا جانے والا ٹرانسفارمر بھی کچھ عرصہ قبل چوری ہو چکا ہے۔
عدم توجہ اور انتظامی غفلت کی وجہ سے میٹرک کے بعد تعلیم چھوڑنے یا دور دراز جانے پر مجبور طالبات اور اہل علاقہ نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اہل علاقہ نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ منصوبے کی فوری تکمیل کروا کر کالج کو فعال بنایا جائے۔

