پشاور (سپیشل رپورٹر) خیبر پختونخوا کے ضلع چار سدہ میں ڈبل شفٹ سکول پروگرام میں مالی سال 2021-22 اور 2022-23 کے دوران 13 کروڑ 4 لاکھ 70 ہزار روپے خرچ کرنے کے باوجود 40 ڈبل شفٹ اسکول بالآخر بند کر دیے گئے۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی کارکردگی آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سکولو ں میں کم یا صفر داخلوں کی وجہ سے یہ قدم اٹھانا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومت نے ڈبل شفٹ اسکول پروگرام کا آغاز 2021-22 کے تعلیمی سیشن میں کیا تھا، تاہم پروگرام کی منصوبہ بندی، اسکولوں کے انتخاب، اساتذہ کی بھرتی، نگرانی، اور مالی معاملات میں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔
مزید برآں، آڈٹ رپورٹ میں گھوسٹ طلبہ (کاغذی داخلوں) کی موجودگی کا بھی سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے، جس سے سرکاری فنڈز کے ضیاع اور ناقص حکمت عملی کی قلعی کھل گئی ہے۔