اہم ترین

اوپن یونیورسٹی میں پاکستانی زبانوں کے ڈیٹا سیٹ پر بین الاقوامی ورکشاپ

    اسلام آباد،  (ایجو کیشن رپورٹر) علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی...

کوہاٹ بورڈ انٹرمیڈیٹ نتائج 2026، ہدیہ طارق نے 1142 نمبرز کے ساتھ ٹاپ کر لیا

کوہاٹ (ایجو کیشن رپورٹر) بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن...

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں ”رائز اینڈ شائن ڈے“ کا انعقاد

گلگت (یونیورسٹی رپورٹر) قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے سکول آف کمپیوٹنگ...

گوادر، اساتذہ کی 16 روزہ تربیتی ورکشاپ کا آغاز، انگریزی، اردو اور ریاضی کے جدید تدریسی طریقوں پر تربیت جاری

گوادر (سپیشل رپورٹر)
حکومتِ بلوچستان کی تعلیمی پالیسی کے تحت گوادر میں معیاری تعلیم کے فروغ، تدریسی معیار کی بہتری اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ استعداد کار بڑھانے کے لیے محکمہ تعلیم کی جانب سے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں ‘گوادر پبلک سکولز اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ’ اور یونیسیف  کے تعاون سے سینٹر فار پروفیشنل ڈویلپمنٹ  اور پروونشل انسٹی ٹیوٹ فار ٹیچر ایجوکیشن بلوچستان کے زیرِ اہتمام اساتذہ کے لیے 16 روزہ تربیتی نشست

کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔
یہ تربیتی ورکشاپ گورنمنٹ بوائز ہائی سکول مستانی ریک بازار (پسنی) میں منعقد کی جا رہی ہے، جس میں ضلع گوادر کے مختلف سرکاری سکولوں سے منتخب اساتذہ بڑی تعداد میں شرکت کر رہے ہیں۔

کل تمام تعلیمی ادارے اور راستے کھلے رہیں گے،ڈی سی راولپنڈی

تربیت کا محور اور جدید تدریسی حکمتِ عملی
تربیتی نشست کے دوران اساتذہ کو اہم مضامین اور جدید تعلیمی تکنیکوں پر عمل ورکشاپس کروائی جا رہی ہیں

مضامین انگریزی، اردو اور ریاضی۔

تدریسی طریقہ کار (Pedagogy) جدید سائنسی و نفسیاتی اصولوں کے مطابق کلاس رومز میں طلبہ کو مؤثر تعلیمی رہنمائی فراہم کرنے کی صلاحیتیں۔ضلعی ٹریننگ منیجر صقر ناصر کی زیرِ نگرانی جاری اس پروگرام کا بنیادی مقصد اساتذہ کو جدید تدریسی حکمتِ عملی سے آراستہ کرنا اور کلاس روم میں پڑھانے کے عمل کو زیادہ دلچسپ اور اثر انگیز بنانا ہے۔

عوامی و تعلیمی حلقوں کا خیرمقدم
گوادر کے عوامی اور تعلیمی حلقوں نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر گوادر زاہد حسین اور ڈسٹرکٹ ٹریننگ منیجر صقر ناصر کی ان کاوشوں کو شدید سراہا ہے۔

تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے مسلسل تربیتی پروگرام نہ صرف اساتذہ کی کارکردگی کو نکھارتے ہیں بلکہ گوادر کے سرکاری اسکولوں میں زیرِ تعلیم بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے حکومتی عزم کو عملی جامہ پہنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔