لاہور (ایجو کیشن رپورٹر)
پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (PEF) کے ذیلی ادارے ‘پنجاب ایجوکیشن مینجمنٹ اتھارٹی’ (PEMA) کے زیرِ انتظام صوبہ بھر میں چلنے والے ہزاروں لائسنسی اسکول سنگین مالی بحران کا شکار ہو گئے ہیں۔ پیما حکام کی جانب سے گزشتہ دو ماہ (جولائی اور اگست 2026) کے معاوضوں کی ادائیگیاں تاحال نہ کیے جانے کے باعث تعلیمی عمل مفلوج ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
مالی بحران اور اس کے اثرات: اعداد و شمار کی روشنی میںمعاوضوں کی عدم ادائیگی سے پیدا ہونے والی صورتحال کے خطرناک اثرات درج ذیل ہیں
متاثرہ اسکول صوبہ بھر میں پیما کے ماتحت چلنے والے تقریباً 4,300 لائسنسی اسکول براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔
متاثرہ اساتذہ و عملہ ان اسکولوں میں خدمات سر انجام دینے والے 20,000 سے زائد اساتذہ اور انتظامی عملہ گزشتہ دو ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہے، جس کے باعث وہ سنگین گھریلو اور مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔متاثرہ طلباء
ان 4,300 اسکولوں میں حکومتِ پنجاب کے تعاون سے تقریباً 6 لاکھ بچے زیرِ تعلیم ہیں، جن کا تعلیمی مستقبل اس مالی تعطل کی وجہ سے خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
اسکول مالکان اور اساتذہ کا مؤقف
سکول مالکان اور اساتذہ تنظیموں نے پیما انتظامیہ کے اس رویے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اسکول مالکان کے مطابق، ادائیگیاں نہ ہونے سے وہ نہ صرف اساتذہ کی تنخواہیں دینے سے قاصر ہیں بلکہ اسکولوں کے یوٹیلٹی بلز (بجلی، پانی وغیرہ) اور عمارتوں کے کرائے ادا کرنا بھی ناممکن ہو گیا ہے۔ اساتذہ نے شکایت کی ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں دو ماہ تک تنخواہ نہ ملنے سے ان کے گھریلو اخراجات بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور وہ فاقہ کشی پر مجبور ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب، رابطہ کرنے پر پنجاب ایجوکیشن مینجمنٹ اتھارٹی (پیما) کے حکام کا کہنا ہے کہ لائسنسی اسکولوں کو معاوضوں کی ادائیگیاں مکمل طور پر بند نہیں کی گئی ہیں بلکہ مرحلہ وار ادائیگیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جولائی اور اگست کے بقایاجات (Arrears) بھی جلد از جلد ادا کر دیے جائیں گے تاکہ اسکولوں کا مالی بحران ختم ہو سکے اور تعلیمی عمل معمول کے مطابق جاری رہے۔
تاہم، اسکول مالکان نے فوری اور مکمل ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ 6 لاکھ بچوں کی تعلیم متاثر نہ ہو۔