اسلام آباد(سپیشل رپورٹر) وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے سندھ میں منعقدہ ایم ڈی کیٹ امتحانات سے متعلق موصول ہونے والی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے شفاف تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
وفاقی وزیر صحت نے اپنے بیان میں کہا کہ سندھ میں ایم ڈی کیٹ امتحان کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں اور اس صورتحال پر عوامی نمائندوں نے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ حکومت اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) امتحان منعقد کرنے والی یونیورسٹی کے ساتھ مل کر تمام شکایات کا تفصیلی جائزہ لیں گی۔
وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق
نتائج کا تقابلی جائزہ امتحانی مراکز کے نتائج، نمبرز، پاسنگ ریٹ اور غیر معمولی يا نمایاں فرق کی باریک بینی سے جانچ کی جائے گی۔
ملتان، میٹرک سپلیمنٹری امتحان کی آن لائن رول نمبر سلپس جاری
جامع انکوائری حاضری شیٹس، سیٹنگ پلان، سینٹر ریکارڈ اور نتائج کا مکمل ڈیٹا تحقیقاتی عمل کا حصہ ہو گا۔
بے ضابطگیوں کا خاتمہ پرچہ لیک، جعلسازی، غیر مجاز معاونت، بے ضابطگی اور عملے کی غفلت جیسے پہلوؤں کا سختی سے جائزہ لیا جائے گا۔
ذمہ داری کا تعین تکنیکی خرابی یا کسی بے ضابطگی کی وجہ سے امتحان متاثر ہونے کی صورت میں ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ایم ڈی سی کو امتحان کے انعقاد اور نتائج سے متعلق تمام تر ریکارڈ فراہم کرنے کا پابند کیا گیا ہے، جبکہ وفاقی وزیر صحت نے ایم ڈی کیٹ 2026 انکوائری کمیٹی کو15 روز کے اندر حتمی رپورٹپیش کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔