پشاور(سپیشل رپورٹر) پشاور کے پوش علاقے حیات آباد میں قائم ایک نجی یونیورسٹی میں بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی پر احتجاج کرنے والے طلباء پر سیکیورٹی گارڈز کی جانب سے ہوائی فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کے بعد پولیس نے تحرک لیتے ہوئے 3 سیکیورٹی گارڈز کو حراست میں لے لیا۔
طلباء کے مطابق ہاسٹل میں بجلی، انٹرنیٹ کی عدم دستیابی اور ناقص کھانے کے خلاف احتجاج کیا جا رہا تھا۔ مسائل کی نشاندہی پر فیض اللہ نامی طالب علم کو ہاسٹل وارڈن کی جانب سے بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا اور یونیورسٹی سے اخراج کا نوٹس تھما دیا گیا۔
وفاقی وزیر صحت نے ایم ڈی کیٹ امتحان میں شکایات کا نوٹس لے لیا شفاف تحقیقات کا حکم
طلباء کا کہنا ہے کہ رجسٹرار اور وائس چانسلر (وی سی) کے ساتھ مذاکرات کے دوران بھی ان کی بات سننے کے بجائے بدتمیزی کی گئی، اور بعد ازاں احتجاج کے دوران رجسٹرار کی ایماء پر سیکیورٹی گارڈز نے
ان پر فائرنگ کی۔دوسری جانب پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ میں ملوث 3 سیکیورٹی گارڈز کو گرفتار کر کے ان کا اسلحہ تحویل میں لے لیا ہے اور ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
واقعے کے بعد طلباء کے درپیش مسائل کے حل کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ طے شدہ عمل کے تحت طلباء دو روز کے اندر اپنے تمام مطالبات تحریری طور پر جامعہ انتظامیہ کے سامنے رکھیں گے، جس کے بعد انتظامیہ ان کا جائزہ لے کر حتمی فیصلہ سازی کے لیے مالکان کو ارسال کرے گی