لاہور (سپیشل رپورٹر)لاہور انتظامیہ اور محکمہ تعلیم نے آؤٹ آف اسکول بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے 20 کروڑ روپے کی بھاری لاگت سے ایک جدید ’لائبریری آن ویل‘ پروگرام کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت جدید سہولیات سے لیس 55 الیکٹرک رکشے خریدے گئے ہیں۔
پروگرام کے مطابق لاہور کی 5 تحصیلوں میں 11، 11 الیکٹرک رکشے بطور موبائل لائبریری آپریشنل کیے جائیں گے، جو مختلف علاقاجات اور بستیوں میں جا کر آؤٹ آف اسکول بچوں تک تعلیم کی رسائی ممکن بنائیں گے۔ ان تمام لائبریریوں کے لیے ایک چارجنگ سنٹر پائلٹ اسکول میں قائم کیا جائے گا، جہاں سے الیکٹرک رکشے روزانہ چارج ہو کر اپنے مقررہ روٹس پر روانہ ہوں گے۔
جدید طرز پر تیار کردہ ان موبائل لائبریریوں کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ ان میں روایتی کاغذی کتابیں موجود نہیں ہوں گی، بلکہ ہر الیکٹرک رکشے میں 20، 20 جدید ٹیب اور ایک ایل ای ڈی نصب کی گئی ہے۔ بچے ان ٹیبز کے ذریعے ای بکس اور دیگر تعلیمی مواد سے مستفید ہو سکیں گے۔
ایجوکیشن اتھارٹی لاہور اس تمام منصوبے کو آپریشنل رکھنے اور اس کے روزمرہ کے تمام اخراجات کی مکمل ذمہ داری برداشت کرے گی۔ تعلیمی حلقوں نے اس جدید انقلابی قدم کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے ڈراپ آؤٹ اور غیر سکول بچوں کی بڑی تعداد کو دوبارہ تعلیمی دھارے میں شامل کرنے میں مدد ملے گی۔