لاہور (ایجو کیشن رپورٹر) علامہ اقبال میڈیکل کالج لاہور کے طلبہ نے کالج کے سوئمنگ پول میں طالب علم عبداللہ مظہر کی المناک موت سے متعلق انکوائری رپورٹ کے خلاف پرنسپل آفس کے باہر احتجاج کیا ہے۔
طلبہ نے انکوائری کے نتائج پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں کسی بھی قسم کی ادارہ جاتی غفلت کو تسلیم نہیں کیا گیا اور سانحے کی تمام تر ذمہ داری مرحوم طالب علم پر ڈال دی گئی ہے۔ طلبہ نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ آواز اٹھانے اور احتساب کا مطالبہ کرنے والے طلبہ کو تادیبی کارروائی کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
احتجاجی طلبہ کا کہنا تھا کہ ایک قیمتی جان کے ضیاع کو محض ایک انفرادی واقعہ قرار دے کر معاملہ ختم نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی ایسی انکوائری قابلِ قبول ہے جو ادارے کی ذمہ داری سے متعلق بنیادی سوالات کا جواب نہ دے۔ طلبہ نے سوال اٹھایا کہ سوئمنگ پول میں حفاظتی انتظامات کیوں موجود نہیں تھے اور واقعے کے وقت لائف گارڈز اپنی ڈیوٹی پر کیوں نہیں تھے۔
وفاقی اردو یونیورسٹی, سینیٹ نامزدگیوں پر پھڈا، اجلاس دوبارہ بلانے کامطالبہ
اسلامی جمعیت طلبہ لاہور کے ناظم عبداللہ بن عباس نے بھی واقعے پر کالج انتظامیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے نے انتظامیہ کی اہلیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، اور انتظامیہ کی جانب سے اسے محض حادثہ قرار دینا دراصل ذمہ داران کو بچانے کی کوشش ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کے ذمہ داران کو فوری طور پر برطرف کر کے ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے حفاظتی انتظامات فوری مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ اقدامات نہ اٹھائے گئے تو اسلامی جمعیت طلبہ، طلبہ کے ساتھ مل کر کالج کے باہر احتجاج کرے گی اور مطالبات پورے ہونے تک کالج بند رہے گا۔