لاہور(سپیشل رپورٹر) سیشن عدالت اوکاڑہ میں یونیورسٹی آف اوکاڑہ کی خاتون استاد کو ہراساں کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین کی عدم پیشی کے باعث ان پر فردِ جرم عائد نہ ہو سکی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالغفار نے خاتون پروفیسر ڈاکٹر شہلا ہنی کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل ایڈووکیٹ صفدر شاہین پیر زادہ نے اپنے دلائل پیش کیے۔
وزیر اعلی بلوچستان نےڈھابے پرکام کرنے والے یتیم بچے کےخاندان کی کفالت کی ذمہ داری اٹھا لی
درخواست گزار کا موقف تھا کہ
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین نے ناپسندیدہ مطالبات نہ ماننے پر انہیں مبینہ طور پر ہراساں کیا۔
وائس چانسلر نے انتقامی کارروائی کے طور پر ڈاکٹر شہلا ہنی کی تنخواہ اور ٹی ٹی ایس مراعات روک دیں اور ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔
بیرونِ ملک پوسٹ ڈاکٹریٹ مکمل کر کے واپسی پر ان کی جوائننگ بلاجواز رد کی گئی۔
وائس چانسلر ڈاکٹر سجاد مبین اور پی آر او شرجیل نے یونیورسٹی کی سرکاری ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ان کی کردار کشی کی۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وائس چانسلر اور پی آر او کو قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دی جائے۔
سماعت کے دوران وائس چانسلر ڈاکٹر سجاد مبین کے عدالت میں پیش نہ ہونے کی وجہ سے ان پر فردِ جرم عائد نہ ہو سکی، جس پر فاضل جج نے کیس کی سماعت 10 نومبر تک ملتوی کر دی۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اگلی سماعت پر وائس چانسلر پر باقاعدہ فردِ جرم عائد کی جائے گی۔