کراچی (ایجوکیشن رپورٹر) عدالتی حکم پر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سندھ نے سیکرٹری میٹرک بورڈ کراچی کے خلاف
تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، اس سلسلے میں چیئرمین میٹرک بورڈ کو خط ارسال کرکے متعلقہ ریکارڈ طلب کر لیا گیا
ہے۔
ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن حکام نے خط میں ہدایت کی ہے کہ سیکریٹری میٹرک بورڈ کے دور میں کیے گئے
لاہور ہائیکورٹ, پی ایم ڈی سی کا اسسٹنٹ پروفیسرز کی بھرتیوں کا معیار غیر قانونی قرار
انتظامی اور مالی فیصلوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ اس کے علاوہ تقرریوں، عہدوں میں تبدیلی اور ترقیوں سے
متعلق ریکارڈ بھی طلب کیا گیا ہے۔
اینٹی کرپشن حکام نے میٹرک بورڈ کے آڈٹ اعتراضات، آڈٹ رپورٹس اور ان سے متعلقہ دستاویزات پیش کرنے کی
ہدایت بھی کی ہے، جبکہ بورڈ میں ہونے والی ادائیگیوں، بینک اکاؤنٹس اور بینک ٹرانسفرز کی تفصیلات بھی طلب
کی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق چیئرمین میٹرک بورڈ سے مطلوبہ ریکارڈ کی مصدقہ نقول فراہم کرنے کو کہا گیا ہے اور ہدایت کی
گئی ہے کہ تمام متعلقہ دستاویزات تین روز کے اندر اینٹی کرپشن حکام کو فراہم کی جائیں۔
تحقیقات کا مقصد متعلقہ انتظامی و مالی معاملات اور دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لینا ہے، تاہم فراہم کردہ معلومات
میں سیکریٹری میٹرک بورڈ کے خلاف الزامات کی نوعیت یا تحقیقات کے حتمی نتائج کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔