لاہور (خصوصی رپورٹر)
پنجاب حکومت نے پرائمری کے طلبہ پر بڑھتے ہوئے تعلیمی دباؤ کو کم کرنے اور سکول بیگز کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے نیا اور جدید نصاب تیار کر لیا ہے۔ نیا ڈیجیٹل و تصوراتی نصاب یکم اپریل سے صوبے بھر کے سکولوں میں نافذ العمل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
نیا پرائمری نصاب 25 فیصد ہلکی نصابی کتب، کیو آر کوڈز اور ویڈیو اسباق پر مبنی ہوگا، جس کا بنیادی مقصد تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور بچوں پر سے اضافی کورسز کا بوجھ ختم کرنا ہے۔
نئے نصاب کی اہم خصوصیات اور منصوبہ بندی:
حجم میں کمی: ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق نئے نصاب سے کتب کے حجم میں 25 فیصد تک کمی آئے گی۔
نرسری سے پنجم تک تیاری: نرسری سے پانچویں جماعت تک کا نیا نصاب مکمل تیار کر لیا گیا ہے۔
کیمبرج کو ارسال: نصاب کی عالمی معیار کے مطابق پروف ریڈنگ اور جائزہ کے لیے اسے کیمبرج بھیجوا دیا گیا ہے۔
یومِ اقبال، تعلیمی اداروں کے لیے 9 نومبر کو عام تعطیل کا اعلان
چھپائی کا شیڈول: کیمبرج سے منظوری کے بعد نصاب کو جنوری میں چھپائی کے لیے بھیجا جائے گا تاکہ نئے تعلیمی سال کے آغاز سے قبل کتب کی باآسانی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔
والدین کے تحفظات اور حکومت کا اقدام:
یہ فیصلہ درسی کتب، نوٹ بکس، ورک بکس اور ضمنی کورسز کے مسلسل بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔ بالخصوص بڑے شہروں میں بچوں کے سکول بیگز کا وزن تجویز کردہ حد سے کہیں زیادہ ہو چکا ہے۔
والدین کا کہنا ہے کہ اس وقت طلباء لازمی مضامین کے ساتھ ساتھ گرائمر، ریاضی کی اضافی مشقوں، کمپیوٹر سائنس، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور دیگر جدید علوم کی کتابیں پڑھنے پر مجبور ہیں، جس کی وجہ سے بچوں کو بھاری تھیلوں کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔ حکومتِ پنجاب کا نیا ڈیجیٹل نصاب بچوں کو اس جسمانی اور ذہنی دباؤ سے نجات دلانے میں اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔