لاہور (سپیشل رپورٹر) پنجاب کے سرکاری سکولوں میں بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت تمام سرکاری سکولوں میں چائلڈ پروٹیکشن کمیٹیاں قائم کرنے کی تجویز پیش کر دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں سیکرٹری سکول ایجوکیشن کو ایک مراسلہ ارسال کیا گیا ہے، جس میں بچوں کے تحفظ سے متعلق تعلیم کو سکولوں کے تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کی اہم سفارش بھی کی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن کے تحت سکولوں میں جامع حفاظتی نظام متعارف کروانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے طلبہ، اساتذہ اور والدین پر مشتمل مشترکہ چائلڈ پروٹیکشن کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی، جو بچوں کو درپیش مسائل کی بروقت نشاندہی کریں گی اور متعلقہ اداروں تک رپورٹنگ کو یقینی بنائیں گی۔
چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو سارہ احمد کے اہم نکات
-
جسمانی تحفظ کی آگاہی: بچوں کو محفوظ ماحول کی فراہمی کے لیے انہیں "گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ”، جسمانی تحفظ اور نامناسب رویوں کی بروقت شناخت سے متعلق آگاہی دینا انتہائی ضروری ہے۔
-
آن لائن تحفظ و سائبر بلنگ: ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بچوں کو سائبر بلنگ اور آن لائن ہراسگی سے محفوظ رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے لیے سوشل میڈیا کے محفوظ استعمال اور آن لائن پرائیویسی سے متعلق شعور فراہم کیا جائے گا۔
-
پیشگی حفاظتی اقدامات: صرف واقعات رونما ہونے کے بعد کارروائی کافی نہیں بلکہ پیشگی حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔ "چائلڈ پروٹیکشن پریوینشن مہم” کے تحت اساتذہ اور والدین میں بھی آگاہی پیدا کی جائے گی۔
-
تعاون اور تربیت: چائلڈ پروٹیکشن بیورو نصابی مواد کی تیاری اور اساتذہ کی تربیت کے لیے سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو مکمل تعاون فراہم کرے گا۔ بنیادی مقصد بچوں کو ممکنہ خطرات سے آگاہ کر کے انہیں اپنی حفاظت خود کرنے کے قابل بنانا ہے