لاہور: تعلیمی اداروں کی نجکاری کے خلاف اساتذہ تنظیموں کا گرینڈ الائنس، حکومت کو وارننگ
بہترین انفراسٹرکچر والے سکولز کو آؤٹ سورس کرنا قبول نہیں، وزیر تعلیم سے فوری ملاقات کا فیصلہ
لاہور (نمائندہ خصوصی) مسلم ماڈل ہائی سکول سول لائن لاہور میں پنجاب کی نمائندہ اساتذہ تنظیموں کے قائدین کا ایک اہم مشترکہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں حکومت پنجاب کی جانب سے سکولوں کی نجکاری (آؤٹ سورسنگ) کے نئے فیز پر شدید تشویش اور تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں پنجاب ٹیچرز یونین کے تمام دھڑوں، پیکٹ پنجاب، فزیکل ٹیچرز ایسوسی ایشن اور پنجاب پروفیسر اینڈ لیکچرار ایسوسی ایشن کے منتخب عہدیداران نے شرکت کی۔
شرکاء اجلاس:
اجلاس میں پنجاب ٹیچرز یونین (عباسی گروپ) سے چوہدری محمد بشیر وڑائچ، محمد نواز گوندل، محمد ارشد ڈڈ؛ (کاظمی گروپ) سے رانا محمد انوارالحق، چوہدری محمد یسین وڑائچ، رانا لیاقت علی؛ اور (قیصر گروپ) سے سید فیاض حسین گیلانی و چوہدری مراتب علی نے شرکت کی۔ پیکٹ پنجاب کی نمائندگی محمد کاشف شہزاد چوہدری اور سید مدثر حسین شاہ نے کی، جبکہ فزیکل ٹیچرز ایسوسی ایشن سے سعود جان شریک ہوئے۔ پنجاب پروفیسر اینڈ لیکچرار ایسوسی ایشن کی صدر پروفیسر فائزہ رعنا اور ڈاکٹر طارق بلوچ نے خصوصی شرکت کی، جبکہ ایس ایس ٹی ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ریاست علی راون دورانِ میٹنگ رابطے میں رہے۔
اہم تحفظات:
قائدین نے مشترکہ اعلامیہ میں کہا کہ:
حکومت اساتذہ کی کمی کو جواز بنا کر سکولوں کی نجکاری کر رہی ہے جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔
ایسے سکولز جن کے پاس بہترین انفراسٹرکچر، اعلیٰ عمارات اور طلبہ کی بڑی تعداد موجود ہے، انہیں بھی آؤٹ سورسنگ کے عمل میں شامل کرنا ناقابل قبول ہے۔
نجکاری کے اس عمل سے پنجاب کے عوام مفت اور معیاری تعلیم کے حق سے محروم ہو جائیں گے۔
آئندہ کا لائحہ عمل:
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اساتذہ قائدین کا وفد فوری طور پر وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات سے ملاقات کرے گا اور انہیں سکولوں کی آؤٹ سورسنگ روکنے کے حوالے سے اپنے مطالبات پیش کرے گا۔ قائدین نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے موجودہ فیز فوری طور پر واپس نہ لیا تو اساتذہ تنظیمیں سخت احتجاج اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرنے پر مجبور ہوں گی۔

