پشاور (بیورو رپورٹ) یونیورسٹی آف ایگریکلچر پشاور اس وقت تاریخ کے بدترین مالی، انتظامی اور تعلیمی بحران کا شکار ہو چکی ہے جہاں سبکدوش ہونے والے وائس چانسلر کی مدت کے آخری ایام میں گورننس اور بھرتیوں کے طریقہ کار پر سنگین سوالات نے جنم لے لیا ہے،
ذرائع کے مطابق جامعہ شدید مالی دباؤ کا شکار ہے اور صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ رواں ماہ کی تنخواہیں بھی مبینہ طور پر ملازمین کو ادا نہیں کی جا سکیں جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کے پنشن واجبات بھی تاحال زیر التوا ہیں جن میں سے کئی کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، حیران کن طور پر اس شدید مالی بحران کے باوجود بھرتیوں اور ترقیوں کا عمل دھڑلے سے جاری ہے جس نے انتظامی ترجیحات اور ادارے کی پائیداری پر بڑے خدشات پیدا کر دیے ہیں،
جاری بھرتیوں کے عمل کی قانونی حیثیت اور شفافیت بھی مشکوک ہو چکی ہے کیونکہ اطلاعات کے مطابق سلیکشن بورڈ کی کارروائیاں 2015 اور 2021 کے پرانے اشتہارات کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں جو انتظامی اصولوں کے تحت اپنی اہمیت کھو چکے ہیں، ذرائع کا کہنا ہے
کہ وائس چانسلر کی مدت کے آخری دنوں میں سلیکشن بورڈ اور سنڈیکیٹ کے اجلاس عجلت میں بلانے کی کوششیں کی گئیں جنہیں مبینہ طور پر ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے مداخلت کر کے روک دیا، جامعہ میں میرٹ کی دھجیاں اڑانے کے الزامات بھی سامنے آ رہے ہیں جن میں ڈوزیئر میں ردوبدل، اسناد کی غلط نمائندگی اور متنازع تقرریاں شامل ہیں جبکہ تعلیمی منصوبہ بندی کا حال یہ ہے کہ جن شعبہ جات میں طلبہ کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے وہاں بھی نئی فیکلٹی بھرتی کی جا رہی ہے جس سے ادارے پر مالی بوجھ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

