سپورٹس فنڈز کے نام پر اضافی وصولیاں ناانصافی ہیں، 8 سمسٹرز کی فیس 9 ہزار سے بڑھ کر 20 ہزار تک پہنچ گئی: مظاہرین
وزیرِ اعلیٰ اور وزیرِ تعلیم نوٹس لیں، فیسیں واپس نہ ہوئیں تو احتجاج کا دائرہ پورے صوبے تک پھیلا دیں گے: علی امان و دیگر
پشاور (خصوصی رپورٹر) گورنمنٹ کالج پشاور اور دیگر سرکاری تعلیمی اداروں کے سیکڑوں طلبہ نے امتحانی فیسوں میں مبینہ طور پر ہزاروں روپے کے اچانک اضافے کے خلاف خیبر پختونخوا اسمبلی کے سامنے بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر فیسوں میں کمی اور انتظامیہ کے خلاف نعرے درج تھے۔ طلبہ نے مطالبہ کیا کہ اضافی فیسوں کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور کالج انتظامیہ کی جانب سے امتحانی فیسوں میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا ہے، جس نے طلبہ اور ان کے والدین کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ طلبہ کے مطابق، پہلے امتحانی فیس تقریباً 5 ہزار روپے تھی، لیکن اب مختلف پوشیدہ مدات اور فنڈز کے نام پر ان سے اضافی رقم وصول کی جا رہی ہے۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ سپورٹس فنڈ سمیت دیگر چارجز شامل کر کے فیسوں کو 10 سے 11 ہزار روپے تک پہنچا دیا گیا ہے۔
احتجاج میں شریک طلبہ نے موقف اختیار کیا کہ بیشتر طلبہ کا کھیلوں کی سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں، اس کے باوجود ان سے بھاری سپورٹس فنڈ وصول کرنا سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آٹھ سمسٹرز کی مجموعی فیس جو پہلے تقریباً 9 ہزار روپے بنتی تھی، اب بڑھ کر 20 ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے، جس کے باعث متوسط اور غریب طبقے کے طلبہ کے لیے تعلیم جاری رکھنا ناممکن ہو گیا ہے۔
مقررین کا خطاب: مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے گورنمنٹ کالج پشاور کے طالب علم علی امان نے کہا کہ “آج ہمیں کلاس رومز میں ہونا چاہیے تھا، لیکن حکومت کے ظالمانہ فیصلوں نے ہمیں سڑکوں پر آنے پر مجبور کر دیا ہے۔” انہوں نے کہا کہ ہمارے والدین محنت مزدوری کر کے ہمیں پڑھا رہے ہیں، لیکن تعلیمی اخراجات میں بے تحاشا اضافہ نوجوانوں کو تعلیم سے دور کرنے کی سازش ہے۔
مظاہرین نے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا اور صوبائی وزیرِ تعلیم سے اس معاملے پر فوری مداخلت اور نوٹس لینے کی اپیل کی۔ طلبہ نے خبردار کیا کہ اگر فیسوں میں کیا گیا اضافہ فوری طور پر واپس نہ لیا گیا تو احتجاج کا دائرہ کار پورے صوبے تک وسیع کر دیا جائے گا

