Become a member

Get the best offers and updates relating to Liberty Case News.

― Advertisement ―

spot_img
Homeبریکنگ نیوزپنجاب یونیورسٹی, "گرین پیپر" جاری، مخالف جوائنٹ ایکشن کمیٹی میں پھوٹ

پنجاب یونیورسٹی, “گرین پیپر” جاری، مخالف جوائنٹ ایکشن کمیٹی میں پھوٹ

لاہور (سپیشل رپورٹر) پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے کرپشن انکوائریوں کا سامنا کرنے والے عناصر کے وائٹ پیپر کے جواب میں جامعہ کی مالی اور انتظامی پیشرفت پر مبنی “گرین پیپر” جاری کر دیا ہے، جبکہ دوسری جانب انتظامیہ مخالف جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے 5 میں سے 3 گروپس نے پریس کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا۔ صدر اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن امجد مگھسی نے بھی کمیٹی سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے اسے “مفاداتی ٹولہ” قرار دے دیا۔

ترجمان پنجاب یونیورسٹی کے مطابق جوائنٹ ایکشن کمیٹی میں محض وہی افراد باقی رہ گئے ہیں جن کے خلاف اربوں روپے کے سکینڈلز اور سنگین بے ضابطگیوں کی انکوائریاں جاری ہیں اور وہ کارروائی سے بچنے کے لیے انتظامیہ پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔

ترجمان نے گرین پیپر کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی کی قیادت میں مالی نظم و نسق اور شفافیت کے باعث پرائیویٹ امیدواروں کی تعداد 1 لاکھ 92 ہزار سے کم ہو کر 35 ہزار رہ جانے کے باوجود یونیورسٹی کی مجموعی آمدن 7 ارب 15 کروڑ سے بڑھ کر 12 ارب 56 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی کا بجٹ خسارہ 2 ارب 86 کروڑ روپے سے کم ہو کر 1 ارب 67 کروڑ روپے رہ گیا۔

ترجمان کے مطابق 2024 میں ذخائر سے 4 ارب 19 کروڑ کے اخراجات کے مقابلے میں 2025-26 میں صرف 2 ارب 57 کروڑ روپے خرچ ہوئے اور 2 ارب 30 کروڑ روپے ری انویسٹ کیے گئے۔ ون اکاؤنٹ پالیسی، بجلی چوری کی روک تھام اور سولر پروجیکٹ سے 28 کروڑ 60 لاکھ روپے جبکہ دہائیوں پرانی کینٹینوں کی شفاف نیلامی سے آمدن میں 16 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا-

انتظامی اصلاحات کے تحت “ون مین، ون پوسٹ” اور شعبہ جات کے صدور کی “روٹیشن پالیسی” پر بلاامتیاز عمل درآمد یقینی بنایا گیا ہے، جبکہ تاریخ میں پہلی بار ہاسٹلز اور پنجاب یونیورسٹی کی اربوں روپے مالیت کی 50 سال پرانی زمینوں سے غیر قانونی قبضے واگزار کرائے گئے۔