اسلام آباد ( ایجو کیشن رپورٹر) وفاقی سرکاری ملازمتوں اور سینٹرل سوپیریئر سروسز (سی ایس ایس) کے امتحانات میں نوجوانوں کی دلچسپی میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) کے گزشتہ چار سالہ تجزیاتی اعداد و شمار کے مطابق، سی ایس ایس امتحان کے لیے رجسٹریشن کرانے والے امیدواروں کی تعداد میں تقریباً 48 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جو 2022 میں 35,059 تھی اور 2025 میں کم ہو کر محض 18,139 رہ گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق نہ صرف رجسٹریشن بلکہ امتحان میں شریک ہونے والے امیدواروں کی تعداد بھی 20,262 سے گھٹ کر 12,792 رہ گئی ہے۔ اس کمی کے باوجود حتمی انتخاب کا عمل انتہائی محدود رہا، جہاں 2022 میں 239 امیدوار منتخب ہوئے تھے، وہیں 2025 میں یہ تعداد مزید کم ہو کر 170 رہ گئی۔ 2025 میں رجسٹرڈ امیدواروں میں سے صرف 0.94 فیصد اور امتحان میں شریک ہونے والوں میں سے محض 1.33 فیصد امیدوار ہی کامیابی حاصل کر سکے۔
عمومی بھرتیوں (جنرل ریکروٹمنٹ) کا رجحان یہی رجحان وفاقی حکومت کی عمومی بھرتیوں میں بھی دیکھا گیا، جہاں رجسٹریشن کی تعداد جو 2023 میں 436,757 کی بلند ترین سطح پر تھی، صرف دو سالوں میں 55 فیصد سے زائد کمی کے ساتھ 2025 میں 196,193 رہ گئی۔ اسی طرح امتحانات میں شرکت کرنے والے بھی 199,234 سے کم ہو کر 80,633 رہ گئے۔ تاہم، 2025 میں ان دو لاکھ کے قریب امیدواروں میں سے صرف 3,005 امیدواروں کی ہی سفارش کی جا سکی۔
امتحان میں شرکت کی شرح میں بہتری رپورٹ سے یہ دلچسپ حقیقت بھی سامنے آئی کہ اگرچہ مجموعی درخواست گزار کم ہوئے ہیں، لیکن رجسٹرڈ امیدواروں میں سے امتحان دینے والوں کا تناسب بڑھ گیا ہے۔ 2023 میں جہاں صرف 45 فیصد رجسٹرڈ سی ایس ایس امیدوار امتحان میں بیٹھے تھے، وہیں 2025 میں یہ شرح بڑھ کر 71 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح عمومی بھرتیوں میں بھی حاضری کی شرح 32 فیصد سے بڑھ کر 41 فیصد تک پہنچ گئی۔
اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ درخواست گزاروں کی تعداد میں نمایاں کمی کے باوجود وفاقی ملازمتوں کے لیے مقابلہ اب بھی انتہائی سخت ہے، کیونکہ محدود نشستوں کے مقابلے میں امیدواروں کی تعداد اب بھی کئی گنا زیادہ ہے۔

