اہم ترین

جامعہ کراچی کے پروفیسر تشدد کیس میں پیشرفت، فریقین میں صلح

کراچی (ایجو کیشن رپورٹر) جامعہ کراچی کے شعبہ علومِ اسلامیہ...

ملک بھر میں ایم ڈی کیٹ امتحان کا انعقاد مکمل، امیدواروں کو ‘Answer Key’ کا انتظار

کراچی (سپیشل رپورٹر) کراچی سمیت ملک بھر میں میڈیکل اینڈ...

اسلامی جمعیت طلبہ نے ”حقوق طلبہ تحریک“ کا آغاز کردیا

لاہور/اسلام آباد(ایجو کیشن رپورٹر)ناظمِ اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان...

 ایم ڈی کیٹ میں نمبرز بڑھوانے کا جھانسہ دینے والا جعل ساز گروہ گرفتار

مردان (سپیشل رپورٹر) وفاقی تحقیقاتی ادارے مردان نے ایک بڑی...

اسلام آباد, 25 ہزار بچوں کو اسکول داخل کرنے کا 3 ماہ کا ہدف، نئے کمیونٹی اسکولوں کا منصوبہ تیار

اسلام آباد: 25 ہزار بچوں کو اسکول داخل کرنے کا 3 ماہ کا ہدف، نئے کمیونٹی اسکولوں کا منصوبہ تیار

اسلام آباد (نیوز رپورٹر) وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے وفاقی دارالحکومت میں اسکول سے باہر موجود بچوں کو تعلیمی دھارے میں لانے کے لیے ایک جامع 3 سالہ رولنگ پلان کے تحت اگلے تین ماہ میں 25,000 بچوں کے داخلے کا بڑا ہدف مقرر کر لیا ہے۔ اس مہم کا مقصد اسلام آباد میں تعلیمی شرح کو بہتر بنانا اور ہر بچے تک اسکول کی رسائی ممکن بنانا ہے۔

ہاٹ اسپاٹس پر نئے اسکولوں کا قیام:
حکومت نے ان مخصوص علاقوں یا ‘ہاٹ اسپاٹس’ کی نشاندہی کی ہے جہاں اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ان بچوں کو ان کے گھروں کے قریب تعلیم فراہم کرنے کے لیے وہاں نئے کمیونٹی اسکول قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وفاقی سیکرٹری تعلیم ندیم محبوب کے مطابق یہ اقدام وفاقی وزیرِ تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی "کوئی بچہ پیچھے نہ رہے” مہم کا حصہ ہے۔

کارپٹ کوریج اور سروے:
اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے وفاقی نظامتِ تعلیم (FDE)، NCHD اور دیگر اداروں کی فیلڈ ٹیموں کو متحرک کر دیا گیا ہے۔ حکمت عملی کے تحت یونین کونسل کی سطح پر ‘کارپٹ کوریج پلان’ کے ذریعے گھر گھر سروے کیا جائے گا تاکہ اسکول سے باہر بچوں کی نشاندہی کر کے ان کا فوری داخلہ یقینی بنایا جا سکے۔

مشترکہ تعاون اور مانیٹرنگ:
مہم میں یونیورسٹی کے طلباء، بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں (INGOs) اور سول سوسائٹی کا تعاون بھی شامل کیا گیا ہے۔ وفاقی سیکرٹری تعلیم ہر ہفتے اس مہم کی پیش رفت کا جائزہ لیں گے تاکہ مقررہ وقت میں 25 ہزار بچوں کے داخلے کا ہدف ہر صورت حاصل کیا جا سکے۔