اہم ترین

سندھ یوتھ اپرچونٹی فیسٹیول کا 17 ستمبر سے لاڑکانہ میں انعقاد

لاڑکانہ (خصوصی رپورٹر) سندھ کے نوجوانوں کو کھیلوں، تعلیم، جدید...

جامعہ سیالکوٹ میں شعبہ اردو کے زیرِ اہتمام ‘اوپن ہاؤس 2026’ کا پروقار انعقاد

سیالکوٹ (خصوصی رپورٹر) یونیورسٹی آف سیالکوٹ کے شعبہ اردو کے...

جامعہ پشاور کی ہٹ دھرمی، ڈگریوں کی عدم فراہمی پر 100 سے زائد طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا

پشاور (ایجو کیشن رپورٹر) جامعہ پشاور میں ہائر ایجوکیشن کمیشن ...

اسلام آباد, 25 ہزار بچوں کو اسکول داخل کرنے کا 3 ماہ کا ہدف، نئے کمیونٹی اسکولوں کا منصوبہ تیار

اسلام آباد: 25 ہزار بچوں کو اسکول داخل کرنے کا 3 ماہ کا ہدف، نئے کمیونٹی اسکولوں کا منصوبہ تیار

اسلام آباد (نیوز رپورٹر) وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے وفاقی دارالحکومت میں اسکول سے باہر موجود بچوں کو تعلیمی دھارے میں لانے کے لیے ایک جامع 3 سالہ رولنگ پلان کے تحت اگلے تین ماہ میں 25,000 بچوں کے داخلے کا بڑا ہدف مقرر کر لیا ہے۔ اس مہم کا مقصد اسلام آباد میں تعلیمی شرح کو بہتر بنانا اور ہر بچے تک اسکول کی رسائی ممکن بنانا ہے۔

ہاٹ اسپاٹس پر نئے اسکولوں کا قیام:
حکومت نے ان مخصوص علاقوں یا ‘ہاٹ اسپاٹس’ کی نشاندہی کی ہے جہاں اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ان بچوں کو ان کے گھروں کے قریب تعلیم فراہم کرنے کے لیے وہاں نئے کمیونٹی اسکول قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وفاقی سیکرٹری تعلیم ندیم محبوب کے مطابق یہ اقدام وفاقی وزیرِ تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی "کوئی بچہ پیچھے نہ رہے” مہم کا حصہ ہے۔

کارپٹ کوریج اور سروے:
اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے وفاقی نظامتِ تعلیم (FDE)، NCHD اور دیگر اداروں کی فیلڈ ٹیموں کو متحرک کر دیا گیا ہے۔ حکمت عملی کے تحت یونین کونسل کی سطح پر ‘کارپٹ کوریج پلان’ کے ذریعے گھر گھر سروے کیا جائے گا تاکہ اسکول سے باہر بچوں کی نشاندہی کر کے ان کا فوری داخلہ یقینی بنایا جا سکے۔

مشترکہ تعاون اور مانیٹرنگ:
مہم میں یونیورسٹی کے طلباء، بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں (INGOs) اور سول سوسائٹی کا تعاون بھی شامل کیا گیا ہے۔ وفاقی سیکرٹری تعلیم ہر ہفتے اس مہم کی پیش رفت کا جائزہ لیں گے تاکہ مقررہ وقت میں 25 ہزار بچوں کے داخلے کا ہدف ہر صورت حاصل کیا جا سکے۔