Become a member

Get the best offers and updates relating to Liberty Case News.

― Advertisement ―

spot_img
HomeUncategorizedتعلیمی بورڈ لاہور، چھت ٹپکنے سے میٹرک امتحان کی جوابی کاپیاں خراب...

تعلیمی بورڈ لاہور، چھت ٹپکنے سے میٹرک امتحان کی جوابی کاپیاں خراب ہو گئیں

لاہور بورڈ میں چھت ٹپکنے سے میٹرک امتحان 2026 کی ہزاروں جوابی کاپیاں پانی میں بہہ گئیں، رزلٹ شدید متاثر ہونے کا خدشہ
18 کروڑ روپے کی لاگت سے پرانی بلڈنگ کی مر مت کی گئی ہے جبکہ یہ بلڈنگ پہلی ہی بارش برداشت نہ کر سکی، عملہ ترپالوں کے ساتھ کاپیاں بچانے میں ناکام، والدین اور طلبہ کا وزیراعلیٰ پنجاب سے نوٹس اور سخت کارروائی کا مطالبہ


لاہور (ایجو کیشن رپورٹر)بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاہور کی سنگین غفلت اور انتظامی نااہلی کا بڑا شاہکار سامنے آ گیا تعلیمی بورڈ کی پرانی بلڈنگ کی چھت ٹپکنے کے باعث میٹرک امتحانات 2026 کی ہزاروں حل شدہ جوابی کاپیاں شدید متاثر اور خراب ہو گئیں، جس سے ہزاروں طلبہ و طالبات کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے اور نتائج کے شدید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

حال ہی میں جس پرانی بلڈنگ کی مرمت و آرائش پر کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ ( سی اینڈ ڈبلیو) کے ذریعے 18 کروڑ روپے کے بھاری فنڈز پانی کی طرح بہائے گئے وہ عمارت بارش کا پہلا جھٹکا بھی برداشت نہ کر سکی ہے بارش کا پانی چھت سے رس کر سیدھا ان کمروں میں جا گھسا جہاں میٹرک کی جوابی کاپیاں محفوظ کی گئی تھیں یاد رہے کہ میٹرک برانچ کو 49لارنس روڈ سے دوبارہ یہاں شفٹ کیا گیا تھا


پانی ٹپکنے کے بعد بورڈ کی نااہل انتظامیہ میں بھگڈر مچ گئی اور عملہ روایتی انداز اپنائے ترپالیں ڈال کر کاپیوں کو بچانے کی ناکام کوششیں کرتا رہا ہے لیکن تب تک ہزاروں کاپیاں پانی میں بھیگ کر تباہ ہو چکی تھیں اس واقعے کے بعد طلبہ، طالبات اور شدید تشویش میں مبتلا والدین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے

کہ 18 کروڑ روپے کے خطیر فنڈز کی بندر بانٹ کرنے والے کرپٹ عناصر اور ناہل انتظامیہ کے خلاف فوری انکوائری قائم کر کے سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے چیرمین تعلیمی بورڈ لاہور ڈاکٹر انجینئر بدرالاسلام نے اس حوالے سے موقف دیتے ہوئے دعوی کیا کہ جو کاپیاں خراب ہوئی ہیں وہ ردی کاغذ تھا جبکہ انہیں بہت پہلے بورڈ انتظامیہ کو بیچ دینا چاہیے تھا، دوسری طرف ذرائع کا اسرارہے کہ میٹرک کی جوابی کاپیوں کو ترپال ڈال کر بچانے کی کوشش کی گئی ورنہ انتظامیہ ردی کوبچانے کے لیے ترپال ڈالنے کی زحمت نہ کرتی