اہم ترین

سندھ یوتھ اپرچونٹی فیسٹیول کا 17 ستمبر سے لاڑکانہ میں انعقاد

لاڑکانہ (خصوصی رپورٹر) سندھ کے نوجوانوں کو کھیلوں، تعلیم، جدید...

جامعہ سیالکوٹ میں شعبہ اردو کے زیرِ اہتمام ‘اوپن ہاؤس 2026’ کا پروقار انعقاد

سیالکوٹ (خصوصی رپورٹر) یونیورسٹی آف سیالکوٹ کے شعبہ اردو کے...

جامعہ پشاور کی ہٹ دھرمی، ڈگریوں کی عدم فراہمی پر 100 سے زائد طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا

پشاور (ایجو کیشن رپورٹر) جامعہ پشاور میں ہائر ایجوکیشن کمیشن ...

جامعات میں خودساختہ تعیناتیوں پر ایکشن؛ وی سیز کے اختیارات محدود

سندھ حکومت کا جامعات میں خودساختہ تعیناتیوں پر بڑا ایکشن؛ وی سیز کے اختیارات محدود

کراچی (سٹاف رپورٹر): حکومتِ سندھ نے صوبے کی سرکاری جامعات میں پرو وائس چانسلرز اور قائمقام وی سیز کی تعیناتیوں کے حوالے سے سخت پالیسی نافذ کرتے ہوئے وائس چانسلرز کے صوابدیدی اختیارات ختم کر دیے ہیں۔ وزیر جامعات و بورڈز سندھ، محمد اسماعیل راہو نے اعلان کیا ہے کہ اب کوئی بھی وائس چانسلر اپنی مرضی سے کسی فرد کو پرو وائس چانسلر کا چارج تفویض کرنے کا مجاز نہیں ہوگا۔

نئے ضابطہ اخلاق کے نمایاں نکات:

  • وزیراعلیٰ کی پیشگی منظوری: ہر قسم کی تعیناتی کے لیے کنٹرولنگ اتھارٹی یعنی وزیراعلیٰ سندھ کی پیشگی منظوری کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
  • سینئر پروفیسرز کا پینل: تمام وائس چانسلرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خالی اسامیوں کے لیے تین سینئر پروفیسرز کا پینل ان کے مکمل ریکارڈ کے ساتھ سندھ حکومت کو ارسال کریں۔
  • غیر قانونی تعیناتیوں کی منسوخی: وزیراعلیٰ کی منظوری کے بغیر کی جانے والی تمام تقرریاں "غیر قانونی” تصور ہوں گی جنہیں حکومت کسی بھی وقت منسوخ کرنے کا حق رکھتی ہے۔

اقدام کا مقصد: وزیر جامعات محمد اسماعیل راہو کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد جامعات کے انتظامی امور میں شفافیت لانا، اقربا پروری کا خاتمہ کرنا اور اعلیٰ عہدوں پر صرف میرٹ کے مطابق تقرریوں کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط اور قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔