اہم ترین

پاکپتن, اینٹی کرپشن کی ریڈ، 40 ہزار رشوت لیتے محکمہ تعلیم کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر گرفتار

پاکپتن(نامہ نگار) اینٹی کرپشن پنجاب نے کارروائی کرتے ہوئے محکمہ...

اردو یونیورسٹی کی زبوں حالی، ایچ ای سی کی اعلیٰ کمیٹی کی موجودہ قیادت تبدیل کرنے کی سفارشز

 اسلام آباد(سپیشل رپورٹر) ہائیر ایجوکیشن کمیشن  کی اعلیٰ سطح...

دنیا بھر میں 2025 کے دوران سکولوں پر حملوں میں 33 فیصد اضافہ ہوا، یونیسکو

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو...

خیبر پختونخوا اسمبلی، خصوصی بچوں کے لیے الگ نصاب اور ماہر اساتذہ کی فراہمی کا مطالبہ

سماعت سے محروم اور جسمانی معذور بچوں کی ضروریات عام بچوں سے مختلف ہیں: آمنہ سردارخصوصی بچوں کی مختلف کیٹیگریز کے لیے الگ نصاب بنانا مشکل ہے: پارلیمانی سیکرٹری

پشاور (نامہ نگار) خیبر پختونخوا اسمبلی میں خصوصی بچوں کی تعلیمی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے الگ نصاب اور ماہر اساتذہ کی فراہمی کا مطالبہ سامنے آ گیا۔

اسمبلی میں بحث و مطالبہ وقفہ سوالات کے دوران مسلم لیگ (ن) کی رکن اسمبلی آمنہ سردار نے موقف اختیار کیا کہ نابینا، سماعت و گویائی سے محروم، پڑھنے میں مشکلات اور جسمانی معذوری رکھنے والے بچوں کی ضروریات عام بچوں سے مختلف ہیں۔ اس لیے ماہرینِ تعلیم کی مدد سے ان کے لیے الگ نصاب مرتب کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام بچوں کی ذہنی صلاحیتیں یکساں نہیں ہوتیں، اس لیے خصوصی بچوں کے لیے الگ تعلیمی نظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔حکومت کا ردِعمل اور امتحانی نتائج

جامعات میں نگران دور کی بھرتیاں درست قرار، پشاور ہائیکورٹ نے برطرفی کا حکومتی مراسلہ کالعدم قرار دے دیا

پارلیمانی سیکرٹری برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم رجب علی عباسی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ خصوصی بچوں کی مختلف کیٹیگریز کے لیے الگ نصاب بنانا ایک مشکل عمل ہے، تاہم صوبے میں فی الوقت یکساں نصاب رائج ہے اور خصوصی بچوں کو ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔انہوں نے بورڈ امتحانات کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا

سال 2025 کے بورڈ امتحانات کل 248 خصوصی بچوں نے شرکت کی۔۔