بااثر لوگوں کے با اثر سفارشی ہوتے ہیں ۔جسٹس خالد اسحاق ،جمیل عاصم کو جیل میں ہونا چاہیے حکام نے اسے ۔بطور رجسٹرار تعینات کر رکھا ہے ۔وکیل صفدر شاہین پیزادہ
رجسٹرار جمیل عاصم جیسے بندوں کو جیل میں ہونا چاہیے، اہم سیٹ پر غیر قانونی براجمان ہیں، وکیل صفدر شاہین پیرزادہ کے عدالت میں دھواں دھار دلائل
لاہور (کورٹ رپورٹر) یونیورسٹی آف اوکاڑہ کے رجسٹرار جمیل عاصم کی تعیناتی لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق جسٹس خالد اسحاق کی عدالت میں درخواست گزار ایس ایم چودھری کی جانب سے نامور قانون دان صفدر شاہین پیرزادہ نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ یہ کیس متعدد بااثر بیوروکریٹس کے کیسز جیسا ہی ہے جنہیں قبل ازیں نوکریوں سے فارغ کیا گیا ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ رجسٹرار جمیل عاصم نے ماسٹر ان انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ڈگری پرسٹن یونیورسٹی لاہور کیمپس سے حاصل کی، جسے ہائر ایجوکیشن کمیشن پہلے ہی غیر قانونی قرار دے کر بند کر چکا ہے۔ جب ایچ ای سی نے اس کیمپس کے طلبہ کی ڈگریوں کو ویریفائی کرنے سے ہی انکار کر دیا ہے تو رجسٹرار کی ڈگری اصلی کیسے ہو گئی؟
دلائل میں مزید انکشاف کیا گیا کہ جمیل عاصم کو ایچ ای سی کے بعض افسران اور سابق بیوروکریٹ و ممبر سنڈیکیٹ اوکاڑہ یونیورسٹی مظہر علی خان کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔

