اہم ترین

خانیوال،پبلک سکول اینڈ یونیورسٹی کالج میں سائیکلنگ مقابلے

خانیوال(نمائندہ خصوصی ) پبلک سکول اینڈ یونیورسٹی کالج میں...

گرلز اسکول تربت کی طالبات کا ریڈیو پاکستان کا دورہ

تربت (نمائندہ حصوصی) گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائی سکول تربت...

بیوٹمز سکول آف لاء میں موٹ کورٹ کا آغاز، قانونی تعلیم کا معیار بہتر بنانا ضروری ہے، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ

کوئٹہ (نمائندہ حصوصی) بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ...

کمشنر مالاکنڈکا محکمہ تعلیم میں گھوسٹ ملازمین اور غیر حاضر عملے کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

مالاکنڈ (نمائندہ حصوصی) کمشنر مالاکنڈ ڈویژن اقبال حسین باچا...

ڈیرہ اسماعیل خان, تعلیمی اداروں میں عملے کی عارضی ایڈجسٹمنٹ منسوخ

ڈیرہ اسماعیل خان (نمایندہ اردہ تعلیم ڈاٹ کام) تعلیمی...

اسلام آباد ہائیکورٹ، کالج اساتذہ کی مستقلی کے بعد دوبارہ جانچ کیخلاف درخواستیں مسترد

اسلام آباد (ایجوکیشن رپورٹر) اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے کالجوں کے تدریسی عملے اور کمپیوٹر

اساتذہ کی مستقلی کے بعد دوبارہ جانچ کے خلاف دائر کردہ تمام درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ جسٹس شاہ رخ

ارجمند نے 32 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ درخواست گزاروں کو مجوزہ قانونی

جانچ سے استثنا دینے کی کوئی قانونی بنیاد ثابت نہیں ہوئی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کو گریڈ 16 اور اس سے اوپر کی آسامیوں پر

مستقلی کی سفارش کرنے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں تھا، جبکہ غیر قانونی اختیار کے تحت کی گئی مستقلی

سندھ, غیر قانونی تقرریوں کی تحقیقات، ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ افسران 20 اکتوبر کو طلب 

کو صرف طویل عرصہ گزر جانے کی بنیاد پر قانونی تحفظ فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے مزید کہا کہ مستقلی کے

نوٹیفیکیشن اور کئی سال ملازمت کرنے سے تقرری کا درست طریقہ ثابت نہیں ہوتا۔

درخواست گزاروں نے وفاقی پبلک سروس کمیشن کے ذریعے دوبارہ ٹیسٹ اور انٹرویوز کے عمل کو عدالت میں چیلنج

کیا تھا۔ درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ تقریباً 14 سال بعد مستقلی کے عمل کی دوبارہ جانچ قانونی اختیار کے

بغیر ہے، اور اس عمل سے ان کی سنیارٹی، تنخواہ کے تحفظ اور پنشن کے حقوق شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ درخواست

گزاروں نے استدعا کی تھی کہ متعلقہ سرکاری خطوط کو غیر قانونی قرار دے کر ان پر عمل درآمد روکا جائے۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد پبلک سروس کمیشن، وفاقی ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن اور اسٹیبلشمنٹ

ڈویژن کے آفس میمورنڈم کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے اس کے خلاف دائر کردہ تمام درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔