کراچی (ایجوکیشن رپورٹر) قومی احتساب بیورو (نیب) نے سندھ ہائی کورٹ لاڑکانہ بینچ کے احکامات کی روشنی میں
محکمہ سکول ایجوکیشن سندھ میں ہونے والی غیر قانونی تقرریوں کی تحقیقات کے سلسلے میں متعلقہ افسران کو
باقاعدہ طور پر طلب کر لیا ہے۔
نیب کی جانب سے ارسال کیے گئے مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ لاڑکانہ بینچ نے 30 جون 2026ء کو
باضابطہ حکم جاری کیا تھا، جس کے بعد مشترکہ تفتیشی ٹیم کا اجلاس 15 جون 2026ء کو منعقد ہوا تھا۔ خط کے
متن کے مطابق یہ تحقیقات مکمل طور پر سندھ ہائی کورٹ کے احکامات اور ہدایات کی پیروی میں شروع کی گئی
سندھ , طلبہ اور فارغ التحصیل نوجوانوں کے لیے انٹرن شپ اور روزگار کے مواقع بڑھانے کا فیصلہ
ہیں، کیونکہ سال 2020ء سے محکمہ سکول ایجوکیشن کی جانب سے بارہا ارسال کیے گئے خطوط اور یاد دہانیوں کے
باوجود مطلوبہ مکمل ریکارڈ تاحال نیب کو فراہم نہیں کیا گیا۔
ریکارڈ کی مسلسل عدم فراہمی کے باعث سندھ ہائی کورٹ کی ہدایات کی بروقت تعمیل میں شدید تاخیر ہو رہی
ہے۔ نیب کا مزید کہنا ہے کہ یہ ریکارڈ ان تمام ذمہ دار افسران اور اہلکاران کی نشاندہی اور تعین کے لیے ناگزیر ہے
جو ان غیر قانونی تقرریوں کے عمل میں ملوث رہے ہیں۔
اس صورتحال کے پیش نظر محکمہ سکول ایجوکیشن کے متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 20 اکتوبر کو
نیب کراچی کے دفتر میں مشترکہ تفتیشی ٹیم کے سامنے ذاتی طور پر پیش ہو کر انکوائری کے عمل میں شامل ہوں۔ اس
کے ساتھ ہی افسران کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے ساتھ سال 1989ء سے لے کر اب تک کی گئی اساتذہ، ٹیکنیشنز اور
دیگر عملے کی تمام آسامیوں پر تقرریوں کی مکمل اور تفصیلی معلومات لازمی ہمراہ لائیں۔