Become a member

Get the best offers and updates relating to Liberty Case News.

― Advertisement ―

spot_img
Homeایکسکلوسیو نیوزامتحان میں دھاندلی کا بڑا اسکینڈل، مودی حکومت اپوزیشن کے نشانے پر

امتحان میں دھاندلی کا بڑا اسکینڈل، مودی حکومت اپوزیشن کے نشانے پر

نیٹ یو جی انڈیا امتحان میں دھاندلی کا بڑا اسکینڈل، مودی حکومت اپوزیشن کے نشانے پر

نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارت میں میڈیکل کالجوں میں داخلے کے سب سے بڑے قومی امتحان نیٹ یو جی کے پیپر لیک اسکینڈل نے پورے ملک میں سیاسی اور عوامی طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں نے امتحانی نظام میں بے ضابطگیوں کو لے کر مرکزی حکومت اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) پر کڑی تنقید کرتے ہوئے وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

حقیقت چھپانے اور مافیا سے ملی بھگت کے الزامات

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے حکومت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2018 میں این ٹی اے (NTA) کے قیام کے بعد سے امتحانی نظام میں شفافیت نام کی کوئی چیز نہیں رہی۔ انہوں نے مودی حکومت پر ‘پیپر لیک مافیا’ کے ساتھ ملی بھگت اور حقیقت کو دبانے کا الزام لگایا ہے۔

جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری اپنے بیان میں این ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل کے اس دعوے کو “شرمناک اور حیران کن” قرار دیا جس میں کہا گیا تھا کہ پیپر مکمل طور پر لیک نہیں ہوا بلکہ صرف کچھ سوالات باہر آئے تھے۔ کانگریس لیڈر نے سوال اٹھایا:

“امتحان سے کافی پہلے ایک ایسا ‘گیس پیپر’ طلبا کے درمیان گردش کر رہا تھا جس میں اصل امتحان کے درجنوں سوالات موجود تھے۔ اگر یہ پیپر لیک نہیں ہے، تو پھر پیپر لیک کسے کہتے ہیں؟ حکومت اس سچائی کو کیوں چھپا رہی ہے؟”

بائیس (22)لاکھ سے زائد طلبا کا مستقبل داؤ پر

یاد رہے کہ رواں سال 3 مئی کو منعقد ہونے والے اس امتحان میں ملک بھر سے 22 لاکھ سے زائد طلبا شریک ہوئے تھے۔ تاہم، راجستھان کے شہر ‘سیکر’ سمیت مختلف علاقوں سے پیپر لیک اور ایک 60 صفحات پر مشتمل مبینہ ہینڈ ریٹن (ہاتھ سے لکھے ہوئے) گیس پیپر کے وائرل ہونے کی شکایات سامنے آنے کے بعد حکومت نے 12 مئی کو یہ امتحان منسوخ کر دیا تھا۔ اس بڑے فیصلے نے لاکھوں محنتی طلبا کے مستقبل کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

‘نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی’ اب ‘نیشنل ٹروما ایجنسی’ بن چکی ہے

اپوزیشن نے امتحانی ایجنسی NTA کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے طلبا کے لیے “نیشنل ٹروما ایجنسی” (ذہنی اذیت دینے والا ادارہ) قرار دیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ سال 2024 میں بھی نیٹ امتحان میں ایسی ہی دھاندلی کے شواہد ملے تھے، لیکن اگر حکومت نے اس وقت سخت ایکشن لیا ہوتا تو آج 2026 میں لاکھوں طلبا کو اس ذہنی اور مالی اذیت سے نہ گزرنا پڑتا۔

تحقیقاتی ایجنسیوں پر عدم اعتماد اور ری ٹیسٹ کا اعلان

اس پورے معاملے کی تحقیقات سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (CBI) کو سونپ دی گئی ہیں، جس نے مختلف ریاستوں سے گرفتاریاں بھی کی ہیں۔ تاہم، اپوزیشن نے ماضی کی کلوزر رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے سی بی آئی کی تحقیقات پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

دوسری طرف، مودی حکومت اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے امتحانی نظام کے “کمانڈ چین” میں خرابی کا اعتراف کرتے ہوئے ذمہ داری قبول کی ہے اور اب یہ امتحان 21 جون 2026 کو دوبارہ منعقد کرانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ تاہم، طلبا اور والدین کی جانب سے امتحانی نظام میں مستقل اور فول پروف اصلاحات کے لیے احتجاج کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔