اہم ترین

طلبہ حقوق کے لیے اسلامی جمعیت طلبہ کا رحیم یار خان سے لاہور ‘روڈ کارواں’ کا اعلان

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر) اسلامی جمعیت طلبہ تنظیم نے 9 نومبر...

کراچی, فرسٹ ایئر سالانہ نتائج 2026 کا نئے گریڈنگ سسٹم کے تحت اعلان

کراچی (ایجوکیشن رپورٹر) اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے چیئرمین...

کراچی یونیورسٹی,مستحق طلبہ اور فیکلٹی آف آرٹس کے لیے 5 کروڑ کے اینڈومنٹ فنڈ کا قیام

کراچی(ایجوکیشن رپورٹر) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر...

طلبہ میں سائنسی سوچ کےفروغ کیلئے سندھ میں ساڑھے 8 ہزار سائنس اساتذہ بھرتی کرنے کا اعلان

کراچی(ایجوکیشن رپورٹر) سندھ میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، آرٹس اور...

سندھ کی سرکاری جامعات میں ، اساتذہ، ملازمین اور طلبہ کے لیے بائیومیٹرک حاضری لازمی، کلاس رومز کی ڈیجیٹل نگرانی کا فیصلہ

کراچی (ایجو کیشن رپورٹر) سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے صوبے کی سرکاری جامعات میں اساتذہ، ملازمین اور طلبہ کی حاضری، تدریسی نظم و ضبط اور انتظامی نگرانی کے نظام میں انقلابی اور بڑی تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے صوبے کی پانچ بڑی سرکاری جامعات میں بائیومیٹرک حاضری، کلاس رومز کی ڈیجیٹل نگرانی اور مرکزی ڈیٹا انٹیگریشن پر مشتمل ایک جامع ڈیجیٹلائزیشن منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے۔

محکمہ سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو سمری ارسال

کمیشن نے اس اہم منصوبے پر عمل درآمد کے لیے سندھ حکومت کے محکمہ سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے تکنیکی معاونت اور ضروری انفرااسٹرکچر کی فراہمی کے لیے سمری ارسال کر دی ہے۔

اعلیٰ تعلیمی اداروں میں شفافیت اور احتساب کا فروغ

سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر ایس ایم طارق رفیع کی جانب سے بھیجی گئی سمری میں اس بات پر خصوصی زور دیا گیا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں شفافیت، احتساب اور مؤثر انتظامی نگرانی کو فروغ دینے کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

منصوبے کے بنیادی خدوخال درج ذیل ہیں

  • بائیومیٹرک سسٹم: جامعات کے تمام اساتذہ، ملازمین اور طلبہ کے لیے حاضری کا بائیومیٹرک نظام نافذ کیا جائے گا۔
  • کلاس روم مانیٹرنگ: تدریسی عمل کو باقاعدہ اور شفاف بنانے کے لیے کلاس رومز کی ڈیجیٹل نگرانی کی جائے گی۔
  • مرکزی ڈیٹا انٹیگریشن: تمام پانچوں جامعات کے نگرانی کے نظام کو ایک مرکزی نیٹ ورک سے جوڑا جائے گا تاکہ اعلیٰ سطح پر مانیٹرنگ ممکن ہو سکے۔