اہم ترین

گورنمنٹ کالج پشاور طلباء ہنگامہ آرائی، جھگڑا اور فائرنگ: تحقیقاتی رپورٹ تیار

پشاور (کرائم رپورٹر) گورنمنٹ کالج طلباء کے مابین ہنگامہ...

یو ای ٹی لاہورمیں گرینویٹ قابلِ تجدید توانائی چیلنج 2026 کانفرنس

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں وزیراعظم...

جی سی یونیورسٹی میں پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پرتقریب

لاہور (ایجوکیشن رپورٹر) جی سی یونیورسٹی لاپور میں چین...

سرکاری سکولوں کو نان سیلری بجٹ کی پہلی قسط نہ مل سکی

لاہور (ایجوکیشن رپورٹر) پہلی سہ ماہی گزر گئی تا...

اوپن یونیورسٹی میں ”قائداعظم کا وژن اور موجودہ پاکستان“ کے موضوع پر سیمپوزیم

اسلام آباد (ایجو کیشن رپورٹر) پاکستان کے معروف سیاست دان، مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کا وژن ایک خودمختار، مضبوط، جمہوری اور خوشحال پاکستان کا قیام تھا جہاں آئین و قانون کی بالادستی، مساوات، سماجی انصاف، انسانی حقوق، مذہبی آزادی اور تعلیم کو بنیادی اہمیت حاصل ہو۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ”قائداعظم کا وژن اور موجودہ پاکستان“ کے موضوع پر منعقدہ سیمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قائداعظم کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تعلیم، انسانی حقوق، خواتین کی بااختیار شمولیت اور کرپشن کے خاتمے کو قومی ترجیحات بنانا ہوگا۔سیمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر ریاض احمد نے کہا کہ قائداعظمؒ نے برصغیر کے مسلمانوں کو متحد کرکے ایک آزاد وطن کے حصول کی راہ ہموار کی اور ان کا وژن آج بھی پاکستان کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، اداروں کی مضبوطی اور قومی یکجہتی کے ذریعے پاکستان کو ایک مضبوط اور باوقار ملک بنایا جاسکتا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی, ہٹرتالی اساتذہ کو لیڈ کرنے والےسردار اصغر اقبال کی تعیناتی متنازع، تھرڈ ڈویژن کے باوجود پروفیسر بننے کا انکشاف

پروفیسر ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر نے کہا کہ قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے افکار و نظریات کے حقیقی محافظ آج کے نوجوان ہیں۔ نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ ان عظیم رہنماؤں کی زندگی اور جدوجہد کا مطالعہ کرکے ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین، پروفیسر ڈاکٹر سید عامر شاہ نے کہا کہ اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط قائداعظمؒ کے بنیادی اصول ہیں جن پر عملدرآمد کی ضرورت آج پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔

انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ قائداعظمؒ کے افکار کو عملی زندگی کا حصہ بنائیں اور محنت، دیانت اور ذمہ داری کے ذریعے پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے سیمپوزیم کے انعقاد پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود کا شکریہ بھی ادا کیا۔سمپوزیم کا اہتمام اقبال چئیر برائے مسلم و صوفی افکار، شعبہ تاریخ اور ڈائریکٹوریٹ آف سٹوڈنٹ ایڈوائزری اینڈ کونسلنگ سروسز نے باہمی اشتراک سے کیا تھا۔تقریب میں رجسٹرار راجہ عمر یونس، ڈاکٹر فوزیہ عمر، یونیورسٹی کے اساتذہ، پرنسپل افسران اور طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔