لاہور(ایجو کیشن رپورٹر) پنجاب یونیورسٹی میں ان دنوں وائس چانسلر کیخلاف اساتذہ اور ملازمین نے اتحاد کر کے احتجاج شروع کر رکھا ہے اور اس احتجاج کے لیے جوائنٹ ایکشن کمیٹی بنائی گئی ہے جس کے چیئرمین سردار اصغر اقبال ہیں انکے پروفیسر کے عہدے پر بھرتی شدید تنازع کا شکار ہو گئی ہے۔ تعلیمی اسناد کے حوالے سے سامنے آنے والے سنسنی خیز انکشافات کے مطابق سردار اصغر اقبال نے میٹرک، ایف اے اور بی اے کے تمام امتحانات انتہائی کم نمبروں سے پاس کیے، جس کے بعد یونیورسٹی اساتذہ نے ان کی اعلیٰ تعلیمی عہدے پر تعیناتی کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔
تعلیمی کیریئر اور سنسنی خیز تفصیلات
سردار اصغر اقبال کی تعلیمی اسناد کے سامنے آنے والے حقائق درج ذیل ہیں
بی اے (بیچلرز): سال 1996 میں یونیورسٹی آف بلوچستان سے رول نمبر 33279 کے تحت امتحان دیا اور 800 میں سے صرف 326 نمبر حاصل کر کے تھرڈ ڈویژن حاصل کی۔

ایف اے (انٹرمیڈیٹ):سال 1993 میں کراچی بورڈ سے رول نمبر 51595 کے تحت امتحان میں شرکت کی اور 1100 میں سے 483 نمبر لے کر تھرڈ ڈویژن پاس کیا۔

میٹرک: میٹرک کا امتحان بھی معمولی نمبروں کے ساتھ ‘E’ گریڈ میں پاس کیا۔
یونیورسٹی اساتذہ کا شدید احتجاج اور سوالات
ان انکشافات کے بعد پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ میں شدید تشویش اور بے چینی پھیل گئی ہے۔ اساتذہ کرام نے سوال اٹھایا ہے کہ جہاں تعلیمی قوانین کے تحت تھرڈ ڈویژن کے حامل طالب علم کو پی ایچ ڈی جیسے اعلیٰ تعلیمی پروگرام میں داخلہ تک نہیں ملتا، وہاں مسلسل تھرڈ ڈویژنز رکھنے والی شخصیت کو یونیورسٹی کے اعلیٰ ترین تدریسی عہدے یعنی ‘پروفیسر’ پر کیسے مقرر کر دیا گیا؟
یونیورسٹی اساتذہ اور تعلیمی حلقوں نے متعلقہ حکام اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مسلسل تھرڈ ڈویژنز کے باوجود سردار اصغر اقبال کو پروفیسر بنانے کے عمل، میرٹ کی خلاف ورزیوں اور تعلیمی قوانین کی دھجیوں کی فوری شفاف تحقیقات کروائی جائیں۔




