Become a member

Get the best offers and updates relating to Liberty Case News.

― Advertisement ―

spot_img
Homeایجوکیشن منسٹرزاچھا ہے دیہی سندھ کا بچہ اے آئی سے بچا ہوا ہے...

اچھا ہے دیہی سندھ کا بچہ اے آئی سے بچا ہوا ہے سید سردار علی شاہ کے بیان پر سوشل میڈیا پر تنقید کا طوفان

“اچھا ہے دیہی سندھ کا بچہ اے آئی سے بچا ہوا ہے”، ٹیکنالوجی انسانی سوچ اور تخلیقی صلاحیتوں پر اثر انداز ہو رہی ہے: سید سردار علی شاہ

کراچی (نیوز ڈیسک)

وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے انسانی طرزِ فکر پر ایک ‘حملہ’ قرار دیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو اور ایک تقریب سے خطاب کے

دوران انہوں نے کہا کہ جہاں ٹیکنالوجی کام آسان بنا رہی ہے، وہیں ہمیں اس کے مستقبل میں ہونے والے نقصانات اور دفاع کے بارے میں بھی سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔

سید سردار علی شاہ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا تعلق ‘افورڈیبلٹی’ (استطاعت) سے ہے، جسے نجی اسکولوں کے بچے تو اپنا سکتے ہیں لیکن دیہی علاقوں کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔

انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ “اچھا ہے کہ دیہی سندھ کا بچہ اے آئی سے بچا ہوا ہے”۔ ان کا کہنا تھا کہ ننگر پارکر جیسے علاقوں میں جہاں بچہ اپنے باپ کے ساتھ ہل چلا رہا ہے، اگر وہ یکدم کلہاڑی چھوڑ کر کمپیوٹر پکڑے گا تو اسے سمجھنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

وزیر تعلیم نے خبردار کیا کہ اے آئی ہماری سوچنے، سمجھنے اور مسائل حل کرنے کی قدرتی استعداد کو متاثر کر رہی ہے۔ ان کے مطابق:

دنیا میں اے آئی کے حق میں دلائل سے تین گنا زیادہ اس کی مخالفت میں دلائل موجود ہیں۔

بچوں کو مشین سے اٹیچ کرنے کے بجائے ان کی ذہنی اور تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارنا چاہیے۔

اگر بچے صرف اسکرینز تک محدود ہو گئے تو ان کا فطرت اور زمین سے رشتہ ٹوٹ جائے گا۔

سید سردار علی شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم میں انسانی رابطہ، احساس اور مشاہدہ کبھی ختم نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہے جو ٹیکنالوجی کا استعمال تو کرے

مگر انسانیت نہ بھولے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل انٹیلی جنس بچے کو اپنی زمین، ثقافت اور قدرت کی خوبصورتی سے جوڑے رکھنے میں ہے، ورنہ مصنوعی ذہانت انسانی سوچ پر

حاوی ہو جائے گی وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کےمصنوعی ذہانت کے بارے میں اس بیانکے بعد ان پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی جارہی ہے اور سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ وہ سندھ میں بچوں کو جدید تعلیم سے محروم رکھنا چاہتے ہیں اسی لیے وہ سندھی بچوں کے بارے میں اس طرح سوچتے ہیں اور انکو جاہل ہی رہنے دینا چاہتے ہیں