خانیوال (خصوصی رپورٹر) ایجوکیشن کمپلیکس خانیوال میں اینٹی کرپشن ٹیم کی جانب سے کلرک عبدالرحمٰن کے خلاف کیا گیا ٹریپ ریڈ متنازع ہو گیا۔ کمرے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج منظرِ عام پر آنے کے بعد مبینہ ٹریپ ریڈ کی اصلیت کھل کر سامنے آ گئی ہے، جس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ کارروائی منصوبہ بندی کے تحت کی گئی۔
منظرِ عام پر آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب کلرک عبدالرحمٰن اپنے کمرے میں موجود نہیں تھا، تو اینٹی کرپشن کے ساتھ آنے والے ایک نجی سورس نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خاموشی سے پیسے ٹیبل کے نیچے رکھ دیے۔ اس کے فوراً بعد اینٹی کرپشن کی ٹیم نے کمرے میں داخل ہو کر ریڈ کیا اور کلرک عبدالرحمٰن کو گرفتار کر کے پیسے برآمد کرنے کا دعویٰ کر دیا۔
ملازمین کا شدید احتجاج اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ
واقعے کی سچائی سامنے آنے پر ایجوکیشن کمپلیکس خانیوال کے تمام ملازمین میں شدید غم و غصہ پھیل گیا، جس پر انہوں نے کام چھوڑ کر شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایک بے گناہ ملازم کو سازش کے تحت فریم کیا گیا ہے اور اینٹی کرپشن کے نام پر بدعنوانی کا ڈرامہ رچایا گیا ہے۔
احتجاجی ملازمین نے حکامِ بالا اور اینٹی کرپشن کے اعلیٰ افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کو بطور ثبوت شاملِ تفتیش کیا جائے، معاملے کی غیر جانبدارانہ و شفاف تحقیقات کروائی جائیں اور بے گناہ کلرک کو فوری رہا کر کے جھوٹا ریڈ کرنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔