نئی جامعات کے قیام اور منظوری کا طریقہ کار تبدیل کرنے کا فیصلہ، ایچ ای سی نے 24 سال پرانے ضابطے ختم کر دیے
اسلام آباد (ایجو کیشن رپورٹر) ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے ملک میں نئی جامعات اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قیام، چارٹر کے اجراء اور ایکریڈیٹیشن کے لیے 24 سال پرانے ضابطوں کو تبدیل کرتے ہوئے "ریگولیٹری فریم ورک برائے قیام و منظوری اعلیٰ تعلیمی ادارے پاکستان 2026” تیار کر لیا ہے۔ یہ نیا فریم ورک صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی مشاورت کے بعد حتمی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔
ایچ ای سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی جانب سے صوبائی محکمہ ہائر ایجوکیشن کو ارسال کردہ مراسلے کے مطابق ملک میں نئی جامعات کے قیام کے لیے 2002ء کے وفاقی کابینہ کے رہنما اصول نافذ تھے۔ تاہم اعلیٰ تعلیم کے بدلتے تقاضوں، عالمی معیار اور جدید رجحانات کے پیش نظر ان پر نظرثانی ناگزیر ہو چکی تھی۔
مجوزہ مسودہ یکم جولائی 2026ء کو نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطحی کمیٹی کے اجلاس میں پیش کیا گیا، جہاں کمیٹی نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اپنی سفارشات شامل کرنے کی ہدایت کی۔ اس کے بعد 3 جولائی کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے 47 ویں اجلاس میں، جس میں صوبائی محکموں کے نامزد نمائندے بھی شریک تھے، اس نئے فریم ورک کی اصولی منظوری دی گئی۔
کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ وفاقی کابینہ میں پیش کرنے سے پہلے تمام صوبوں اور متعلقہ علاقوں سے باضابطہ رضامندی حاصل کی جائے، جس کے لیے صوبائی حکومتوں کو 20 جولائی 2026ء تک اپنی رائے دینے کی مہلت دی گئی تھی۔ واضح رہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کے 44 ویں اجلاس کے فیصلے کے تحت ایچ ای سی کو ملک میں اعلیٰ تعلیم کے معیارات مقرر کرنے والا واحد قومی ادارہ قرار دیا گیا تھا، تاہم صوبوں کے ساتھ مشاورت سے مزید اقدامات کی ہدایت کی گئی تھی۔

