Become a member

Get the best offers and updates relating to Liberty Case News.

― Advertisement ―

spot_img

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی جانب سے مالی معلومات چھپانے کا الزام، ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کا پنجاب انفارمیشن کمیشن سے تحقیقات کا مطالبہ بہاولپور (نیوز ڈیسک) ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل...
Homeایکسکلوسیو نیوزبلوچستان حکومت کا تاریخی فیصلہ، پرائمری سکولوں میں یونیفارم کی شرط ختم،...

بلوچستان حکومت کا تاریخی فیصلہ، پرائمری سکولوں میں یونیفارم کی شرط ختم، “جینڈر فری” تعلیمی نظام کا اعلان

صوبے سے “ٹاٹ کلچر” کا مکمل خاتمہ کیا جائے، ہر بچے کو ڈیسک فراہم کی جائے، وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی سخت ہدایات

900 اسکولوں میں ڈبل شفٹ، 3 ہزار سنگل روم اسکولوں میں اضافی کمروں کی تعمیر اور یکساں تعلیمی مواد متعارف کرانے کی منظوری

کوئٹہ (سٹاف رپورٹر) حکومت بلوچستان نے صوبے میں شرح خواندگی بڑھانے اور تعلیمی نظام میں انقلابی اصلاحات کے لیے بڑے فیصلوں کی منظوری دے دی ہے۔ صوبائی حکومت نے سرکاری پرائمری اسکولوں میں یونیفارم کی لازمی شرط ختم کرنے اور پرائمری تعلیمی اداروں کو “جینڈر فری” (مخلوط) قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت اب دور دراز علاقوں میں بچے اور بچیاں ایک ہی اسکول میں بنیادی تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ یہ اہم فیصلے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیے گئے، جس میں تعلیم، صحت، امن و امان کے شعبوں میں اصلاحات اور آئندہ مالی سال کے بجٹ کے تناظر میں ترجیحی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

جینڈر فری پالیسی اور یونیفارم کا خاتمہ

اجلاس میں غریب خاندانوں پر یونیفارم کے مالی بوجھ، تعلیمی سہولیات کے محدود وسائل اور دور افتادہ علاقوں میں خواتین اساتذہ کی شدید کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے پرائمری اسکولوں کو جینڈر فری بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس مجوزہ پالیسی کو حتمی منظوری کے لیے بلوچستان کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ اس اقدام سے پسماندہ علاقوں میں بچوں اور بچیوں کی اسکولوں تک رسائی آسان ہوگی اور شرح داخلہ میں نمایاں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔

“ٹاٹ کلچر” کا خاتمہ اور ڈیسکوں کی فراہمی

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں سے “ٹاٹ کلچر” کے مکمل خاتمے کی سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے سیکرٹری اسکولز ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو تمام فعال تعلیمی اداروں میں ڈیسکوں کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات کا حکم دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا:

“دنیا تیزی سے ترقی کر چکی ہے لیکن یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ بلوچستان کے اکثر علاقوں میں آج بھی بچے زمین یا ٹاٹ پر بیٹھ کر پڑھنے پر مجبور ہیں۔ یہ صورتحال کسی صورت قابل قبول نہیں، حکومت ہر بچے کو باوقار تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔”

ہیلی کاپٹر کے ذریعے اچانک معائنہ اور انتباہ

میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ وہ خود صوبے کے دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں اسکولوں کا زمینی حقائق جاننے کے لیے اچانک معائنہ کریں گے اور اس مقصد کے لیے ہیلی کاپٹر کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ مقررہ مدت کے بعد اگر کسی بھی اسکول میں بچے ٹاٹ پر بیٹھے پائے گئے تو متعلقہ اعلیٰ حکام کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

تعلیمی انفراسٹرکچر اور دیگر اہم فیصلے

اجلاس کے دوران تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے درج ذیل اہم اقدامات کی منظوری بھی دی گئی:

  • ڈبل شفٹ تدریسی نظام: موجودہ انفراسٹرکچر کا موثر استعمال کرتے ہوئے ہزاروں اضافی طلبہ کو تعلیم دینے کے لیے صوبے کے 900 اسکولوں میں ڈبل شفٹ نظام متعارف کرایا جائے گا۔
  • سنگل روم اسکولوں کی توسیع: چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے بریفنگ میں بتایا کہ آئندہ سال تک صوبے کے 3 ہزار سنگل روم اسکولوں میں اضافی کمروں کی تعمیر مکمل کر لی جائے گی۔
  • یکساں تعلیمی مواد: تمام سرکاری اسکولوں میں منظور شدہ یکساں ریڈنگ اینڈ رائٹنگ مٹیریل متعارف کرایا جائے گا تاکہ معیارِ تعلیم یکساں ہو۔
  • تنخواہوں میں اضافہ: اجلاس میں این سی ایچ ڈی (NCHD) کے اساتذہ کی کئی برسوں سے جمود کا شکار فکسڈ تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافے پر بھی اتفاق کیا گیا۔