spot_img

ذات صلة

جمع

ایمرسن یونیورسٹی، انتظامیہ کے نوٹیفکیشن پر اساتذہ میں کشیدگی اور تشویش

ملتان (ایجوکیشن رپورٹر) ایمرسن یونیورسٹی ملتان میں جاری نئے نوٹیفکیشن...

بنوں یونیورسٹی، ٹیچنگ سٹاف ایسوسی ایشن کی 20 ستمبر تک مطالبات منظوری کی ڈیڈ لائن، یونیورسٹی بند کرنے کی دھمکی

بنوں (نامہ نگار) بنوں یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی ٹیچنگ اسٹاف ایسوسی ایشن نے وائس چانسلر اور ان کی انتظامی ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مطالبات کی منظوری کے لیے 20 ستمبر کی ڈیڈ لائن دے دی ہے۔ ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں یونیورسٹی کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔

ٹیچنگ سٹاف ایسوسی ایشن کی جنرل باڈی کا اہم اجلاس صدر عمر دراز خان وزیر کی صدارت میں سینٹ ہال میں منعقد ہوا، جس میں تدریسی عملے نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس کا ایجنڈا جنرل سیکرٹری ڈاکٹر یار محمد خان نے پیش کیا۔

ایسوسی ایشن کے وائس چانسلر اور انتظامیہ پر سنگین الزام

  • مالی و انتظامی تحفظات: وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد جہانزیب، رجسٹرار، کنٹرولر امتحانات اور ٹریژرر پر مبینہ مالی و انتظامی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی انکوائری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

  • تنخواہ اور ہاؤس رینٹ: وائس چانسلر کو ماہانہ تقریباً 8 لاکھ 50 ہزار روپے تنخواہ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ مبینہ طور پر 80 ہزار روپے ماہانہ ہاؤس رینٹ بھی دیا جا رہا ہے، جبکہ انہیں بنوں ٹاؤن شپ میں سرکاری رہائش بھی میسر ہے۔ ایسوسی ایشن نے اس دہری مراعات پر سوالات اٹھائے ہیں۔

  • گاڑیوں کا استعمال: دعویٰ کیا گیا ہے کہ وائس چانسلر کے زیرِ استعمال بیک وقت گرینڈی، ویگو اور کلٹس جیسی متعدد گاڑیاں موجود ہیں۔ ان گاڑیوں کی الاٹمنٹ، پٹرول، ڈرائیورز اور  اخراجات کی چھان بین کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

  • پشاور رہائش گاہ اور موبائل اخراجات: پشاور میں واقع ذاتی گھر کی مرمت و آرائش کے لیے یونیورسٹی سے مبینہ طور پر 5 لاکھ روپے حاصل کرنے اور 3 لاکھ روپے مالیت کے موبائل فون کی فراہمی پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا ہے۔

  • ڈیلی الائنس  گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران تقریباً 17 لاکھ 50 ہزار روپے ڈیلی الائنس کی مد میں وصول کرنے کی تفصیلات، سفری اجازت نامے اور ان دوروں کے نتائج منظرِ عام پر لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ٹیچنگ اسٹاف ایسوسی ایشن نے حکومتِ خیبر پختونخوا، ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وائس چانسلر اور ان کی ٹیم کے خلاف ایک بااختیار اور غیر جانبدار انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے جو تمام سرکاری ریکارڈ، لاگ بکس، بلز اور مالی دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لے

spot_imgspot_img