کوہاٹ (نمائندہ خصوصی) کوہاٹ بورڈ کے زیرِ انتظام حالیہ میٹرک سالانہ امتحانات میں 4 ہزار 672 طلبہ کے خلاف یو ایم کیسز درج کیے جانے کے بعد متاثرہ طلبہ اور والدین میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بورڈ حکام کے مطابق ان کیسز کی سماعت جاری ہے اور طلبہ کی سہولت کے لیے ان کے اپنے علاقوں میں ہی پیشی کا انتظام کیا گیا ہے۔
دوسری جانب متاثرہ طلبہ کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف نقل اور مبینہ بدتمیزی کے کیسز بنائے گئے ہیں، تاہم رواں سال یو ایم کیسز کی تعداد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے جس پر انہیں شدید تحفظات ہیں۔ طلبہ نے الزام عائد کیا ہے کہ انسپکشن کمیٹی اور سماعت کے دوران کچھ سوال و جواب کرنے والے بعض اہلکاروں کا رویہ مناسب نہیں رہا۔
متاثرہ طلبہ نے مزید انکشاف کیا ہے کہ بعض ایسے طلبہ کے خلاف بھی یو ایم کیسز درج کیے گئے جو امتحانی مرکز میں غیر حاضر تھے، جبکہ کچھ امیدواروں کے اردو کے پرچوں کے ساتھ اسلامیات کی مبینہ نقل منسلک کر دی گئی۔ علاوہ ازیں ایسے طلبہ بھی کیسز کی زد میں آئے ہیں جنہوں نے جوابِ کاپیاں بالکل خالی جمع کرائی تھیں۔
متاثرہ طلبہ نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام یو ایم کیسز کی شفاف، غیر جانبدارانہ اور منصفانہ تحقیقات کی جائیں اور بے گناہ طلبہ کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے ان کے خلاف درج کیسز ختم کیے جائیں۔ واضح رہے کہ طلبہ کے ان سنگین الزامات کے حوالے سے کوہاٹ بورڈ کا باضابطہ موقف تا حال سامنے نہیں آیا ہے۔
پشاور (سپيشل رپورٹر) نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) پشاور…
لاہور (سپيشل رپورٹر) محکمہ سکول ایجوکیشن نے اساتذہ کے لیے "ایکسٹریم ہارڈ شپ" (شدید انسانی/طبی…
کراچی میں بجلی کی شدید لوڈشیڈنگ: اسکولوں کی طالبات سڑکوں پر نکل آئیں، 18 گھنٹے…
کراچى (اسپيشل رپورٹر) سندھ کی سرکاری جامعات میں موجودہ وائس چانسلرز کی مدتِ ملازمت میں…
اسلام آباد (ایجو کیشن رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے متوقع احتجاج اور…
لاہور(ایجو کیشن رپورٹر)اسلامی جمعیت طلبہ لاہور کے زیرِ اہتمام اور ناظم اسلامی جمعیت طلبہ لاہور…