اہم ترین

سندھ یوتھ اپرچونٹی فیسٹیول کا 17 ستمبر سے لاڑکانہ میں انعقاد

لاڑکانہ (خصوصی رپورٹر) سندھ کے نوجوانوں کو کھیلوں، تعلیم، جدید...

جامعہ سیالکوٹ میں شعبہ اردو کے زیرِ اہتمام ‘اوپن ہاؤس 2026’ کا پروقار انعقاد

سیالکوٹ (خصوصی رپورٹر) یونیورسٹی آف سیالکوٹ کے شعبہ اردو کے...

جامعہ پشاور کی ہٹ دھرمی، ڈگریوں کی عدم فراہمی پر 100 سے زائد طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا

پشاور (ایجو کیشن رپورٹر) جامعہ پشاور میں ہائر ایجوکیشن کمیشن  کی نیڈ بیسڈ سکالرشپ حاصل کرنے والے فارغ التحصیل طلبہ فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے اپنی ڈگریوں اور ٹرانسکرپٹس کے حصول کے لیے در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق، سیشن 2021 تا 2025 کے 100 سے زائد طلبہ جن کی 2023 میں سکالرشپ منظور ہوئی تھی اور جنہوں نے نومبر 2025 میں اپنی گریجویشن مکمل کر لی تھی، کو کئی ماہ گزرنے کے بعد بھی یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اسناد جاری نہیں کی جا رہیں۔

خبر کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:

  • ملازمتوں اور اعلیٰ تعلیم میں مشکلات: ڈگری اور ٹرانسکرپٹ نہ ملنے کے باعث متاثرہ طلبہ کو ملازمتوں کے لیے درخواستیں دینے اور اعلیٰ تعلیم کے لیے اگلی یونیورسٹیوں میں داخلے لینے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جس سے ان کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے۔

  • انتظامیہ کی جانب سے ٹالمٹول: طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ متعدد بار یونیورسٹی کے متعلقہ دفاتر کے چکر لگا چکے ہیں اور انتظامیہ سے بات چیت بھی کی ہے، لیکن ہر بار انہیں مختلف وجوہات اور صرف یقین دہانیوں کے ذریعے ٹالا جا رہا ہے۔

  • عدالتی احکامات کی خلاف ورزی: متاثرہ طلبہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے حقوق کے لیے 2025 میں پشاور ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یونیورسٹی کو طلبہ کو ڈگریاں اور متعلقہ فنڈ فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی، مگر اس کے باوجود انتظامیہ نے عملدرآمد نہیں کیا۔

متاثرہ طلبہ نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ عدالتی احکامات پر فوری عمل کرتے ہوئے ان کی روک دی گئی ڈگریاں اور ٹرانسکرپٹس بلا تاخیر جاری کرے۔