اہم ترین

پاکپتن, اینٹی کرپشن کی ریڈ، 40 ہزار رشوت لیتے محکمہ تعلیم کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر گرفتار

پاکپتن(نامہ نگار) اینٹی کرپشن پنجاب نے کارروائی کرتے ہوئے محکمہ...

اردو یونیورسٹی کی زبوں حالی، ایچ ای سی کی اعلیٰ کمیٹی کی موجودہ قیادت تبدیل کرنے کی سفارش

 اسلام آباد(سپیشل رپورٹر) ہائیر ایجوکیشن کمیشن  کی اعلیٰ سطح...

دنیا بھر میں 2025 کے دوران سکولوں پر حملوں میں 33 فیصد اضافہ ہوا، یونیسکو

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو...

جامعہ پشاور کے ملازمین کا احتجاج, یونیورسٹی روڈ بلاک، شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا

پشاور (نیوز رپورٹر) جامعہ پشاور کے ملازمین تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف ایک بار پھر سڑکوں پر آ گئے ہیں، جس کے باعث یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ احتجاج کی شدت کے باعث سڑک کو ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے، جس سے عام شہریوں کو شدید پریشانی اور طویل ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ملازمین کے مطالبات اور شکایات: احتجاجی مظاہرے کے دوران ملازمین نے حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مظاہرین کا کہنا تھا کہ:

  • مسلسل بدانتظامی: "ہمیں ہر ماہ اپنی جائز تنخواہ کے لیے سڑکوں پر نکلنا پڑتا ہے، جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔”
  • مالی بحران: "تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں اور نوبت فاقہ کشی تک پہنچ چکی ہے۔”
  • حکومتی بے حسی: ملازمین نے الزام عائد کیا کہ نہ تو یونیورسٹی انتظامیہ اس سنگین مسئلے کا کوئی مستقل حل نکال رہی ہے اور نہ ہی صوبائی حکومت ملازمین کی حالتِ زار پر توجہ دے رہی ہے۔

شہریوں کی صورتحال: یونیورسٹی روڈ کی بندش کی وجہ سے ایمبولینسوں سمیت سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئیں، جبکہ طلبہ اور دفاتر جانے والے افراد کو متبادل راستے اختیار کرنے پڑے جس سے وقت کا شدید زیاں ہوا۔ انتظامیہ کی جانب سے تاحال مذاکرات یا سڑک کھلوانے کے حوالے سے کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

ملازمین نے خبردار کیا ہے کہ جب تک ان کی تنخواہیں ادا نہیں کی جاتیں اور اس مسئلے کا مستقل حل نہیں نکالا جاتا، ان کا احتجاج جاری رہے گا۔