Become a member

Get the best offers and updates relating to Liberty Case News.

― Advertisement ―

spot_img
Homeبریکنگ نیوزپنجاب کے سرکاری اور نجی سکولوں میں سمر کیمپس لگانے کی اجازت،...

پنجاب کے سرکاری اور نجی سکولوں میں سمر کیمپس لگانے کی اجازت، نوٹیفکیشن جاری

لاہور(ایجو کیشن رپورٹر) حکومتِ پنجاب کے اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے صوبے بھر کے تمام سرکاری اور نجی اسکولوں میں گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران نصابی سرگرمیوں کے لیے سمر کیمپس (Summer Camps) لگانے کی مشروط اجازت دے دی ہے۔ اس سلسلے میں باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے جس پر سیکرٹری اسکول ایجوکیشن مدثر ریاض ملک کے دستخط موجود ہیں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق سمر کیمپس 01 جون 2026 سے 30 جون 2026 تک منعقد کیے جا سکتے ہیں، تاہم اس کے لیے درج ذیل سخت شرائط و ضوابط لاگو ہوں گے:

سمر کیمپس کے لیے لازمی شرائط

  • ایام اور اوقات: سمر کیمپس صرف پیر سے جمعرات تک لگائے جائیں گے، جبکہ جمعہ کے دن چھٹی ہوگی۔ کیمپس کے اوقاتِ کار صبح 07:00 بجے سے صبح 10:00 بجے تک ہوں گے۔
  • کلاسز کی اجازت: سمر کیمپس تمام کلاسز کے طلبہ کے لیے منعقد کیے جا سکتے ہیں۔
  • فیس پر پابندی: نجی اسکول سمر کیمپ کے نام پر کوئی اضافی فیس وصول نہیں کر سکیں گے، جبکہ سرکاری اسکولوں اور اساتذہ کی طرف سے بھی طلبہ سے کوئی ٹیوشن فیس نہیں لی جائے گی۔
  • انڈور سرگرمیاں: اسکول انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ تمام سرگرمیاں اور کلاسز لازمی طور پر کلاس رومز کے اندر (انڈور) منعقد ہوں۔
  • طلبا کی مرضی اور والدین کی اجازت: سمر کیمپس میں شرکت کرنا طلبہ کے لیے لازمی نہیں ہوگا اور اس کے لیے والدین کی تحریری رضامندی حاصل کرنا ضروری ہے۔
  • بنیادی سہولیات کی فراہمی: اسکول انتظامیہ صفائی ستھرائی، پینے کے ٹھنڈے اور صاف پانی، پنکھوں، بیٹھنے کے مناسب انتظام اور لوڈ شیڈنگ کی صورت میں متبادل بجلی (بیک اپ) کی فراہمی یقینی بنائے گی۔ اس کے علاوہ فرسٹ ایڈ باکس (First Aid Box) کا ہونا بھی لازمی ہے۔
  • یونیفارم سے استثنیٰ: سمر کیمپ میں آنے والے تمام طلبہ کو اسکول یونیفارم پہننے سے استثنیٰ حاصل ہوگا، وہ موسم کے لحاظ سے آرام دہ اور موزوں لباس پہن کر آ سکتے ہیں۔

خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہ

محکمہ تعلیم نے تمام چیف ایگزیکٹو افسران (DEAs)، پرنسپلز اور سرکاری و نجی اداروں کے سربراہان کو ہدایت کی ہے کہ ان احکامات پر من و عن عمل درآمد کرایا جائے۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ ان ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔