spot_img

ذات صلة

جمع

پرچے میں صفر نمبر، نویں کا طالب علم عدالت پہنچ گیا

پرچے میں صفر نمبر، نویں کا طالب علم عدالت...

پنجاب پبلک سروس کمیشن نے مختلف اسامیوں کیلئے امتحان کے نتائج جاری کر دیے

ملتان (خصوصی رپورٹر) پنجاب پبلک سروس کمیشن (PPSC) نے مختلف...

پیما سے منسلک اسکولز کے فنڈز دو ماہ سے تاخیر کا شکار، 20 ہزار اساتذہ متاثر

چٹی گوٹھ (نامہ نگار) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور...

جعلی اسناد پربھرتی,اسسٹنٹ پروفیسر 30 سال بعد نوکری سے برطرف

فیصل آباد,جعل ساز اسسٹنٹ پروفیسر 30 سال بعد نوکری...

غازی یونیورسٹی میں ہفتہ رحمۃ اللعالمینؐ کا آغاز، حسنِ قرأت و نعت کے مقابلے

غازی یونیورسٹی میں ہفتہ رحمۃ اللعالمینؐ کا آغاز، حسنِ...

خیبر پختونخوا کے سرکاری سکولوں میں ہندکو پڑھانے کے لیے اساتذہ ناپید، نیا نصاب بحران کا شکار

پشاور (نیوز رپورٹر) خیبر پختونخوا کے سرکاری اسکولوں میں ہندکو زبان کو نئے نصاب کا حصہ تو بنا دیا گیا ہے، لیکن صوبے بھر کے اسکولوں میں اس مضمون کو پڑھانے کے لیے ماہر اساتذہ سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اساتذہ کی عدم دستیابی اور تاحال نئی بھرتیاں نہ ہونے کی وجہ سے یہ نیا تعلیمی فیصلہ شدید بحران کا شکار ہو گیا ہے۔

نئے تعلیمی سال میں ہندکو نصاب کا حصہ مقرر

ذرائع کے مطابق، محکمہ تعلیم کی جانب سے نئے تعلیمی سال سے پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان (ڈی آئی خان) سمیت دیگر اضلاع کے اسکولوں میں ہندکو زبان کو نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد مقامی زبان و ثقافت کو فروغ دینا تھا، تاہم اسکولوں کی سطح پر اس کے لیے کوئی پیشگی تیاری نہیں کی گئی۔

پرائمری، مڈل اور ہائی اسکولوں میں اساتذہ کی شدید کمی

ایک چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے کہ ہندکو زبان کو پرائمری، مڈل اور ہائی اسکولوں کے نصاب میں شامل کرنے کے باوجود، ان اسکولوں میں ہندکو کے ماہر اساتذہ کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اساتذہ کی اس شدید قلت اور ناپید ہونے کے باعث پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان کے اسکولوں میں زیرِ تعلیم طلباء و طالبات کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ان کا تعلیمی حرج ہو رہا ہے۔

بغیر اساتذہ نصاب شامل کرنے پر تشویش

تعلیمی حلقوں اور والدین نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور محکمہ تعلیم کو نصاب میں نئی زبان شامل کرنے سے پہلے اسکولوں میں اس کے ماہر اساتذہ کی بھرتیوں کو یقینی بنانا چاہیے تھا۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کتابیں تو موجود ہیں لیکن کلاس رومز میں انہیں پڑھانے والا کوئی دستیاب نہیں ہے، جس کی وجہ سے طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔

والدین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ہندکو زبان کے اساتذہ کی فوری بھرتیاں کی جائیں تاکہ طلبہ کی مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔