اہم ترین

جنوبی وزیرستان لوئیر میں کرفیو کیخلاف طلبہ کا مظاہرہ، نرمی کا مطالبہ

پشاور (سپیشل رپورٹر) جنوبی وزیرستان لوئر میں روزانہ کی...

گورنر ہاوس کراچی میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب

کراچی (خبر نگار / این این آئی) وزیراعظم یوتھ...

پاکپتن, اینٹی کرپشن کی ریڈ، 40 ہزار رشوت لیتے محکمہ تعلیم کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر گرفتار

پاکپتن(نامہ نگار) اینٹی کرپشن پنجاب نے کارروائی کرتے ہوئے محکمہ...

اردو یونیورسٹی کی زبوں حالی، ایچ ای سی کی اعلیٰ کمیٹی کی موجودہ قیادت تبدیل کرنے کی سفارش

 اسلام آباد(سپیشل رپورٹر) ہائیر ایجوکیشن کمیشن  کی اعلیٰ سطح...

خیبر پختونخوا کے سرکاری سکولوں میں ہندکو پڑھانے کے لیے اساتذہ ناپید، نیا نصاب بحران کا شکار

پشاور (نیوز رپورٹر) خیبر پختونخوا کے سرکاری اسکولوں میں ہندکو زبان کو نئے نصاب کا حصہ تو بنا دیا گیا ہے، لیکن صوبے بھر کے اسکولوں میں اس مضمون کو پڑھانے کے لیے ماہر اساتذہ سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اساتذہ کی عدم دستیابی اور تاحال نئی بھرتیاں نہ ہونے کی وجہ سے یہ نیا تعلیمی فیصلہ شدید بحران کا شکار ہو گیا ہے۔

نئے تعلیمی سال میں ہندکو نصاب کا حصہ مقرر

ذرائع کے مطابق، محکمہ تعلیم کی جانب سے نئے تعلیمی سال سے پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان (ڈی آئی خان) سمیت دیگر اضلاع کے اسکولوں میں ہندکو زبان کو نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد مقامی زبان و ثقافت کو فروغ دینا تھا، تاہم اسکولوں کی سطح پر اس کے لیے کوئی پیشگی تیاری نہیں کی گئی۔

پرائمری، مڈل اور ہائی اسکولوں میں اساتذہ کی شدید کمی

ایک چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے کہ ہندکو زبان کو پرائمری، مڈل اور ہائی اسکولوں کے نصاب میں شامل کرنے کے باوجود، ان اسکولوں میں ہندکو کے ماہر اساتذہ کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اساتذہ کی اس شدید قلت اور ناپید ہونے کے باعث پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان کے اسکولوں میں زیرِ تعلیم طلباء و طالبات کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ان کا تعلیمی حرج ہو رہا ہے۔

بغیر اساتذہ نصاب شامل کرنے پر تشویش

تعلیمی حلقوں اور والدین نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور محکمہ تعلیم کو نصاب میں نئی زبان شامل کرنے سے پہلے اسکولوں میں اس کے ماہر اساتذہ کی بھرتیوں کو یقینی بنانا چاہیے تھا۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کتابیں تو موجود ہیں لیکن کلاس رومز میں انہیں پڑھانے والا کوئی دستیاب نہیں ہے، جس کی وجہ سے طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔

والدین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ہندکو زبان کے اساتذہ کی فوری بھرتیاں کی جائیں تاکہ طلبہ کی مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔