پشاور (ایجو کیشن رپورٹر) خیبر پختونخوا حکومت نے تعلیمی اداروں میں اسٹوڈنٹس یونین کی ممکنہ بحالی کے معاملے پر پیش رفت کرتے ہوئے سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز، پولیس حکام اور دیگر متعلقہ اداروں سے تفصیلی رپورٹس اور تجاویز طلب کر لی ہیں۔ ان اداروں سے موصول ہونے والی سفارشات کی بنیاد پر یونینز کی بحالی سے متعلق حتمی پالیسی مرتب کی جائے گی۔
صوبائی حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں میں طلبہ کی نمائندہ تنظیموں کو بحال کرنے کے اعلان کے بعد عملی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ اداروں سے سیکیورٹی، نظم و ضبط، انتخابی طریقہ کار اور اس کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے آراء طلب کی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ ماضی میں بعض جامعات کے وائس چانسلرز نے اسٹوڈنٹس یونین کی بحالی پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، جن کا مؤقف تھا کہ مختلف طلبہ تنظیموں کے درمیان کشیدگی اور تصادم کے واقعات سے تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ ماضی میں ایسے تنازعات کے نتیجے میں جامعات کی املاک کو نقصان پہنچنے، متعدد طلبہ کے زخمی ہونے اور بعض واقعات میں قیمتی جانوں کے ضیاع کے واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں۔
تاہم، صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ تمام متعلقہ فریقوں کی مشاورت اور سفارشات کی روشنی میں ایک ایسا جامع طریقہ کار تشکیل دیا جائے گا جس سے طلبہ کو جمہوری سرگرمیوں میں حصہ لینے کا بھرپور موقع بھی ملے اور تعلیمی اداروں میں امن و امان اور نظم و ضبط بھی برقرار رہے۔
راولپنڈی (این این آئی) آئی ایس پی آر انٹرن شپ پروگرام 2026 کے تحت سابق…
کراچی (نیوز ڈیسک) وفاقی اردو یونیورسٹی گلشن کیمپس کے سیکیورٹی انچارج پر ہونے والے قاتلانہ…
واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکی ریاست ایریزونا میں اپنی گرل فرینڈ کو بے دردی سے قتل…
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد…