Become a member

Get the best offers and updates relating to Liberty Case News.

― Advertisement ―

spot_img
Homeتازہ ترینخیبرپختونخوا حکومت کا نجی سکولوں پر پراپرٹی ٹیکس کا نیا طریقہ کار...

خیبرپختونخوا حکومت کا نجی سکولوں پر پراپرٹی ٹیکس کا نیا طریقہ کار نافذ، نجی تعلیمی تنظیموں نے مستردکر دیا

پشاور (نیوز رپورٹر) خیبر پختونخوا حکومت نے نجی تعلیمی اداروں سے پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کا طریقہ کار تبدیل کرتے ہوئے ’فلیٹ کیٹیگری‘ کے بجائے ’پیمائش‘ کی بنیاد پر ٹیکس وصولی کا نیا نظام رائج کر دیا ہے، جسے ’کورڈ ایریا ٹیکس‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس نئے ٹیکس نظام کے تحت اسکولوں کے واش رومز، کوریڈورز، کمپیوٹر لیبز اور سائنس لیبارٹریوں کا رقبہ بھی ٹیکس نیٹ میں شامل ہوگا۔ ٹیکس پالیسی میں اس تبدیلی کا اطلاق یکم جولائی سے ہو گیا ہے۔

دوسری جانب، نجی تعلیمی اداروں کی نمائندہ تنظیموں “پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک (پین)” اور “ہپ نے اس نئی ٹیکس پالیسی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے آئین کے آرٹیکل 25-اے کی صریحاً خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ٹیکس پالیسی کے اہم نکات اور نجی اداروں کے تحفظات

  • پیمائش کی بنیاد پر ٹیکس: روان مالی سال کے فنانس بل میں شامل کی گئی اس نئی پالیسی کے مطابق اب پرائمری، مڈل، ہائی، ہائر سیکنڈری، کالجز اور جامعات سے رقبے کی پیمائش کی بنیاد پر ٹیکس وصول کیا جائے گا، جبکہ اس سے قبل فلیٹ کیٹیگری کے تحت فکس ٹیکس عائد تھا۔
  • آئین کی خلاف ورزی اور تعلیم کا مذاق: نجی تنظیموں نے اس اقدام کو تعلیم کے ساتھ مذاق قرار دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 25-اے کے تحت تعلیم فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ نجی تعلیمی ادارے صوبائی خزانے کو فی طالب علم کم سے کم 8500 روپے کا فائدہ پہنچا رہے ہیں، اس کے باوجود تعلیمی اداروں کو کمرشل تصور کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔
  • سپریم کورٹ کے احکامات کا حوالہ: رہنماؤں کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے واضح طور پر مشاہدہ کیا تھا کہ تعلیم ایک پبلک سروس ہے اور اسے عام تجارتی یا منافع بخش کارپوریٹ کی طرح نہیں سمجھا جا سکتا۔

وزیراعلیٰ سے اپیل

نمائندہ تنظیموں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے اپیل کی ہے کہ فنانس بل میں فوری طور پر ترمیم کی جائے اور نجی تعلیمی اداروں کے لیے پرانا منصفانہ فلیٹ کیٹیگری ٹیکس بحال کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اسکول کی زمین کو کمرشل زون کے بجائے قانونی طور پر ‘ایمنسٹی سپیس’ قرار دیا جائے اور طلبہ کے استعمال میں آنے والے تمام واش رومز، حفاظتی کوریڈورز اور دیگر مشترکہ جگہوں کو ٹیکس سے مستثنیٰ رکھا جائے۔