اہم ترین

پروفیسرحضرت علی چیرمین تعلیمی بورڈ مردان تعینات

مردان (ایجو کیشن رپورٹر) حکومت خیبر پختونخوا کے محکمہ ابتدائی...

پشاور، سرکاری جامعات میں بھرتیوں کی تحقیقات مکمل، رپورٹ صوبائی حکومت کو ارسال

پشاور (سپیشل رپورٹر) خیبر پختونخوا کی سرکاری جامعات میں...

فرانس،طلبا کا احتجاج چھٹے روز میں داخل،1747گرفتار

پیرس (مانیٹرنگ ڈیسک)فرانس میں ابتر تعلیمی نظام، اساتذہ کی...

میرپور بورڈ، نویں جماعت کے نتائج، 101سرکاری سکولوں کا نتیجہ صفر

آزاد کشمیر (ایجوکیشن رپورٹر) میرپور تعلیمی بورڈ آزاد کشمیر...

اسلام آباد ماڈل کالج برائے طالبات ایف 6 میں سٹوڈنٹس کونسل کی حلف برداری

اسلام آباد (ایجوکیشن رپورٹر) اسلام آباد ماڈل کالج برائے...

کراچی، جامعہ ملیہ کالج کے گراؤنڈ پر قبضے کی کوشش، تحقیقات کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم

کراچی (نیوز رپورٹر) ڈائریکٹوریٹ آف کالج ایجوکیشن کراچی ریجن نے جامعہ ملیہ گورنمنٹ ڈگری کالج ملیر کے کھیل کے میدان پر لینڈ مافیا کی جانب سے مبینہ غیر قانونی تعمیرات کا سخت نوٹس لے لیا ہے۔ ڈائریکٹر کالجز کراچی، گلاب رائے نے معاملے کی فوری شفاف تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی چار رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

پرنسپل کی شکایت پر کارروائی: یہ اقدام جامعہ ملیہ کالج کے پرنسپل کی جانب سے موصول ہونے والی اس شکایت کے بعد اٹھایا گیا ہے جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ لینڈ گریبرز نے کالج کی حدود اور کھیل کے میدان پر غیر قانونی تعمیراتی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔

کمیٹی کے ارکان اور دائرہ اختیار: تشکیل دی گئی کمیٹی درج ذیل افسران پر مشتمل ہے:

  1. پروفیسر کامران اکرم شیخ (ایڈیشنل ڈائریکٹر، انسپیکشن)
  2. پروفیسر منصور علی شاہانی (پرنسپل، گورنمنٹ کالج آف کامرس اینڈ اکنامکس نمبر 2)
  3. پروفیسر فخرا مبارک (ڈپٹی ڈائریکٹر، فنانس/لیگل)
  4. عارف نجمی (اسسٹنٹ ڈائریکٹر، انسپیکشن)

کمیٹی کو دی گئی ہدایات: نوٹیفیکیشن کے مطابق کمیٹی کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ:

  • موقع کا دورہ کر کے غیر قانونی تعمیرات کی تصدیق کرے۔
  • متعلقہ دستاویزات، عدالتی احکامات اور دستیاب شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لے۔
  • ضرورت پڑنے پر تمام فریقین کے بیانات قلمبند کر کے تجاوزات کا تعین کرے۔

رپورٹ کی ڈیڈ لائن: حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد تین روز کے اندر اپنی تفصیلی رپورٹ ڈائریکٹر کالجز کراچی کو پیش کرنے کی پابند ہوگی تاکہ ملوث عناصر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جا سکے۔