سپریم کورٹ پِمسٹ لاہور کیمپس کی ڈگریاں پہلے ہی غیر قانونی قرار دے چکی ہے: درخواست گزار
لاہور (خصوصی رپورٹر)
یونیورسٹی آف اوکاڑہ کے رجسٹرار جمیل عاصم کی بطور رجسٹرار تعیناتی کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ یہ درخواست چوہدری ساجد محمود کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں رجسٹرار کی تعلیمی قابلیت اور پیشہ ورانہ ترقی پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ عدالت نے معاملے کی حساسیت کے پیشِ نظر گورنر پنجاب (بطور چانسلر)، چیف سیکرٹری پنجاب اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کو کیس میں فریق بنایا ہے۔
جعلی ڈگری کا سنگین الزام
درخواست گزار نے اپنے موقف میں دعویٰ کیا ہے کہ رجسٹرار جمیل عاصم کی ‘ماسٹر ان انفارمیشن ٹیکنالوجی’ کی ڈگری جعلی اور غیر تسلیم شدہ ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ جمیل عاصم نے یہ ڈگری پِمسٹ لاہور کیمپس سے حاصل کی ہے، جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن پہلے ہی پِمسٹ لاہور کیمپس کی ڈگریوں کی تصدیق کرنے سے انکار کر چکا ہے، جبکہ معزز سپریم کورٹ بھی اس ادارے کی ڈگریوں کو جعلی اور بوگس قرار دے چکی ہے۔
غیر قانونی ترقیاں اور پشت پناہی
پٹیشن میں صرف تعلیمی قابلیت ہی نہیں بلکہ جمیل عاصم کی پیشہ ورانہ سروس کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق جمیل عاصم کی گریڈ 17 سے گریڈ 18 میں ترقی بھی غیر قانونی طور پر کی گئی ہے۔ مزید برآں، یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ ممبر مظہر علی خان نے مبینہ طور پر اس غیر قانونی تعیناتی کی پشت پناہی کی ہے۔
عدالت سے استدعا
چوہدری ساجد محمود نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ جمیل عاصم کی بطور رجسٹرار تعیناتی کو فوری طور پر کالعدم قرار دیا جائے۔ درخواست میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ جب تک کیس کا حتمی فیصلہ نہیں ہو جاتا، عدالت جمیل عاصم کو بطور رجسٹرار کام کرنے سے روکنے کا حکم جاری کرے۔

