اہم ترین

پاکپتن, اینٹی کرپشن کی ریڈ، 40 ہزار رشوت لیتے محکمہ تعلیم کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر گرفتار

پاکپتن(نامہ نگار) اینٹی کرپشن پنجاب نے کارروائی کرتے ہوئے محکمہ...

اردو یونیورسٹی کی زبوں حالی، ایچ ای سی کی اعلیٰ کمیٹی کی موجودہ قیادت تبدیل کرنے کی سفارش

 اسلام آباد(سپیشل رپورٹر) ہائیر ایجوکیشن کمیشن  کی اعلیٰ سطح...

دنیا بھر میں 2025 کے دوران سکولوں پر حملوں میں 33 فیصد اضافہ ہوا، یونیسکو

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو...

سندھ میں 6,220 سکول بارشوں سے متاثر

کراچی(ایجو کیشن رپورٹر)محکمہ تعلیم کے مانیٹرنگ ونگ نے صوبے کے 30 اضلاع میں سروے کے بعد مجموعی طور پر 6,220 اسکولوں کو مخدوش قرار دیا ہے، جن میں 6,283 پرائمری اسکولوں کی خستہ حال عمارتیں بھی شامل ہیں.

اہم فیصلے اور ہدایات:

تدریسی سرگرمیوں کی معطلی: تمام خطرناک اور جزوی طور پر مخدوش اسکولوں کی عمارتوں میں فی الفور تدریسی عمل روکنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار حادثے سے بچا جا سکے.

ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ 20 ستمبر کو ہو گا, تمام مراکز میں لائیو مانیٹرنگ کے لیے سیف سٹیز اتھارٹی کی خدمات حاصل، مرکزی کنٹرول روم قائم 

 

متبادل انتظامات: محکمہ تعلیم نے مخدوش اسکولوں کی فہرستیں متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو ارسال کر دی ہیں. ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان عمارتوں کو خالی کرا کر طلبہ کو قریبی محفوظ اسکولوں میں منتقل کریں.

سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع: اعداد و شمار کے مطابق بدین، میرپورخاص اور تھرپارکر میں خطرناک اور مخدوش اسکولوں کی تعداد دیگر اضلاع کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے.

ضلعی انتظامیہ کا کردار: ڈپٹی کمشنرز نے ضلعی تعلیمی حکام کی مشاورت سے متبادل اسکولوں کی تلاش اور طلبہ کی منتقلی کا عمل شروع کر دیا ہے.