اہم ترین

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کو سعودی جامعہ سے1300 کمپیو ٹرز فراہم کیےجائیں گے،صدر جامعہ

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر)بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد...

لاہور کے گرلز کالجز کے درمیان وزیر اعلیٰ پنجاب کی تصاویر بنانے کا پینٹنگ مقابلہ

لاہور(ایجو کیشن رپورٹر)وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی ہدایت...

ایچ ای سی نے سگریٹ نوشی پر پابندی عائد کر دی

لاہور(ایجو کیشن رپورٹر)ائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے...

سیاسی دباؤ اور دھمکیاں، بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کے وائس چانسلر پروفیسر حسین مہدی مستعفی

کراچی (ایجو کیشن رپورٹر) بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری میں جاری شدید انتظامی بحران اور بیرونی مداخلت کے باعث یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر حسین مہدی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

استعفے کی وجوہات اور وائس چانسلر کا موقفاپنے استعفے کے حوالے سے موقف اختیار کرتے ہوئے پروفیسر حسین مہدی کا کہنا تھا کہ جامعہ میں سیاسی اور جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے مسلسل شدید دباؤ ڈالا جا رہا تھا، جس کے باعث وہ اپنے فرائض آزادانہ اور شفاف انداز میں سرانجام دینے سے قاصر تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل بھی وہ کئی مرتبہ حکومتِ سندھ کو ان درپیش مسائل اور اپنے تحفظات سے باضابطہ طور پر آگاہ کر چکے تھے، تاہم ان کے خدشات کا سدِباب نہ ہو سکا۔

ذرائع کے سنسنی خیز انکشافات دوسری جانب ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وائس چانسلر کا استعفیٰ اچانک سامنے نہیں آیا بلکہ اس کی بنیادی وجہ یونیورسٹی کے اندر انتظامی اصلاحات اور بدعنوانی کے خلاف جاری کارروائیاں تھیں۔
ذرائع کے مطابق

مری، اسکول وین کھائی میں جا گری، آگ بھڑکنے سے 10 بچے جھلس کر زخمی

گھوسٹ ملازمین اور ہراسانی کے خلاف ایکشن وائس چانسلر پروفیسر حسین مہدی نے یونیورسٹی میں موجود غیر فعال (گھوسٹ) ملازمین اور ہراسانی کے معاملات میں ملوث بااثر افسران کے خلاف سخت قانونی و انتظامی کارروائی کا آغاز کر رکھا تھا۔

بلیک میلنگ اور دھمکیاںان اقدامات کے ردِعمل میں مخالف دھڑوں اور بااثر عناصر کی جانب سے وائس چانسلر پر شدید دباؤ ڈالا گیا اور انہیں خبردار کیا گیا کہ اگر وہ اپنے فیصلوں سے پیچھے نہ ہٹے تو ان پر ہراسانی کے من گھڑت اور جھوٹے الزامات عائد کر کے انہیں زبردستی عہدے سے ہٹا دیا جائے گا۔

مسلسل درپیش اخلاقی و سیاسی دباؤ اور دھمکیوں کے بعد بالآخر وائس چانسلر نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔ حکومتِ سندھ کی جانب سے فی الحال اس استعفے کو منظور کیے جانے یا نئے وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے۔