اہم ترین

مری، اسکول وین کھائی میں جا گری، آگ بھڑکنے سے 10 بچے جھلس کر زخمی

مری (نیوز ڈیسک) مری کے علاقے لوئر موہڑا بڑا...

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں ایک روزہ ماحولیاتی کانفرنس

لاہور (ایجو کیشن رپورٹر) گورنمنٹ کالج یونیورسٹی (جی سی...

شادمان، خاتون ٹیچر کا چوتھی جماعت کے طالب علم پر تشدد، مقدمہ درج

لاہور (سپیشل رپورٹر) شادمان کے علاقے میں اسکول کی...

آئی ٹی شعبے کی بہتری کے لیے یونیورسٹیوں میں جدید سینٹرز قائم کریں گے، شزہ فاطمہ

  اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ...

سیاسی دباؤ اور دھمکیاں، بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کے وائس چانسلر پروفیسر حسین مہدی مستعفی

کراچی (ایجو کیشن رپورٹر) بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری میں جاری شدید انتظامی بحران اور بیرونی مداخلت کے باعث یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر حسین مہدی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

استعفے کی وجوہات اور وائس چانسلر کا موقفاپنے استعفے کے حوالے سے موقف اختیار کرتے ہوئے پروفیسر حسین مہدی کا کہنا تھا کہ جامعہ میں سیاسی اور جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے مسلسل شدید دباؤ ڈالا جا رہا تھا، جس کے باعث وہ اپنے فرائض آزادانہ اور شفاف انداز میں سرانجام دینے سے قاصر تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل بھی وہ کئی مرتبہ حکومتِ سندھ کو ان درپیش مسائل اور اپنے تحفظات سے باضابطہ طور پر آگاہ کر چکے تھے، تاہم ان کے خدشات کا سدِباب نہ ہو سکا۔

ذرائع کے سنسنی خیز انکشافات دوسری جانب ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وائس چانسلر کا استعفیٰ اچانک سامنے نہیں آیا بلکہ اس کی بنیادی وجہ یونیورسٹی کے اندر انتظامی اصلاحات اور بدعنوانی کے خلاف جاری کارروائیاں تھیں۔
ذرائع کے مطابق

مری، اسکول وین کھائی میں جا گری، آگ بھڑکنے سے 10 بچے جھلس کر زخمی

گھوسٹ ملازمین اور ہراسانی کے خلاف ایکشن وائس چانسلر پروفیسر حسین مہدی نے یونیورسٹی میں موجود غیر فعال (گھوسٹ) ملازمین اور ہراسانی کے معاملات میں ملوث بااثر افسران کے خلاف سخت قانونی و انتظامی کارروائی کا آغاز کر رکھا تھا۔

بلیک میلنگ اور دھمکیاںان اقدامات کے ردِعمل میں مخالف دھڑوں اور بااثر عناصر کی جانب سے وائس چانسلر پر شدید دباؤ ڈالا گیا اور انہیں خبردار کیا گیا کہ اگر وہ اپنے فیصلوں سے پیچھے نہ ہٹے تو ان پر ہراسانی کے من گھڑت اور جھوٹے الزامات عائد کر کے انہیں زبردستی عہدے سے ہٹا دیا جائے گا۔

مسلسل درپیش اخلاقی و سیاسی دباؤ اور دھمکیوں کے بعد بالآخر وائس چانسلر نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔ حکومتِ سندھ کی جانب سے فی الحال اس استعفے کو منظور کیے جانے یا نئے وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے۔