شانگلہ (نامہ نگار)
شانگلہ میں گورنمنٹ ٹیکنیکل کالج کا اضافی حصہ یونیورسٹی کے حوالے کرنے کی تجویز کو تعلیمی و عوامی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ضلع میں فنی تعلیم کے فروغ اور نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچے گا
لاہور سمیت پنجاب کے تمام 9 تعلیمی بورڈز نے انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو کے نتائج کا اعلان کر دیا
اہالیانِ علاقہ اور تعلیمی حلقوں نے موقف اپنایا ہے کہ ضلع شانگلہ میں پہلے ہی روزگار کے وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں، جس کے باعث یہاں کے لوگ کوئلے کی کانوں میں محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر جنازے واپس آتے ہیں۔ ان حالات میں نوجوانوں کو اپنے ہی ضلع میں معیاری فنی و تکنیکی تعلیم دینا وقت کی اہم ضرورت ہے
تاکہ انہیں مختلف شعبوں میں ہنر مند بنا کر خطرناک پیشوں پر انحصار کم کیا جا سکے اور وہ باوقار روزگار حاصل کرنے کے قابل ہو سکیں
ان حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسٹی اور ٹیکنیکل کالج کو الگ الگ مقامات پر برقرار رکھا جائے اور فنی تعلیم کے اس اہم ادارے کو ختم کرنے یا محدود کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا