Become a member

Get the best offers and updates relating to Liberty Case News.

― Advertisement ―

spot_img
Homeبریکنگ نیوزملک بھر کے سینکڑوں کیمپسز غیر قانونی قرار

ملک بھر کے سینکڑوں کیمپسز غیر قانونی قرار

ایچ ای سی کا ملک بھر میں جعلی اور غیر قانونی یونیورسٹیوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن

پنجاب کے 94 اور سندھ کے 35 اداروں سمیت ملک بھر کے سینکڑوں کیمپسز غیر قانونی قرار؛ فہرست ویب سائٹ پر جاری

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک / تعلیمی رپورٹر) ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ملک بھر میں زیرِ تعلیم لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو تحفظ فراہم کرنے اور انہیں نجی یونیورسٹیوں کی دھوکہ دہی سے بچانے کے لیے ایک بڑا اور فیصلہ کن اقدام اٹھایا ہے۔ کمیشن نے ملک بھر میں کام کرنے والی جعلی یونیورسٹیوں، غیر رجسٹرڈ کیمپسز اور غیر قانونی ڈگری پروگرامز کی نئی اور تفصیلی فہرست جاری کر دی ہے۔

صوبہ وار غیر قانونی اداروں کی تفصیلات

ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق غیر قانونی تعلیمی اداروں کا سب سے بڑا جال پنجاب میں پھیلا ہوا ہے۔

  • پنجاب: سب سے زیادہ 94 انسٹیٹیوٹ اور یونیورسٹی کیمپسز جعلی یا غیر رجسٹرڈ قرار دیے گئے۔
  • سندھ: صوبہ سندھ میں 35 یونیورسٹی کیمپسز کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔
  • خیبرپختونخوا: کے پی کے میں 12 ادارے ایچ ای سی کی شرائط پر پورا نہ اترنے کے باعث بلیک لسٹ ہوئے۔
  • آزاد کشمیر و وفاق: آزاد کشمیر میں 4 اور وفاقی دارالحکومت میں 2 اداروں کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔

“ڈگری صرف کاغذ کا ٹکڑا ہوگی” – ایچ ای سی کا انتباہ

ایچ ای سی نے واضح طور پر الرٹ جاری کیا ہے کہ ان غیر منظور شدہ اداروں سے حاصل کی گئی ڈگریاں محض ردی کا ٹکڑا تصور ہوں گی۔

  1. ایسی ڈگریوں کی ایچ ای سی سے تصدیق نہیں کی جائے گی۔
  2. یہ ڈگریاں سرکاری ملازمت کے لیے کسی طور پر بھی قابلِ قبول نہیں ہوں گی۔
  3. ان اداروں کے فارغ التحصیل طلبہ پاکستان یا بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم (ایم فل، پی ایچ ڈی) کے لیے اہل نہیں ہوں گے۔

والدین اور طلبہ کے لیے اہم ہدایات

کمیشن نے والدین اور طلبہ پر زور دیا ہے کہ وہ کسی بھی نجی یا سرکاری یونیورسٹی میں داخلہ لینے، فیس جمع کرانے یا کاغذات جمع کرانے سے پہلے ایچ ای سی کی آفیشل ویب سائٹ پر موجود “تسلیم شدہ اداروں” کی فہرست لازمی چیک کریں۔

حکام کا کہنا ہے کہ بہت سی نجی یونیورسٹیاں پرکشش اشتہارات اور خوبصورت عمارتوں کے ذریعے طلبہ کو راغب کرتی ہیں، لیکن ان کے پاس یا تو این او سی نہیں ہوتا یا وہ غیر منظور شدہ پروگرام چلا رہی ہوتی ہیں۔ طلبہ کی سہولت کے لیے تمام بلیک لسٹڈ اداروں کے نام ایچ ای سی کے پورٹل پر اپ لوڈ کر دیے گئے ہیں۔

تعلیمی حلقوں کا ردِعمل

تعلیمی ماہرین نے ایچ ای سی کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے تعلیمی مافیا کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ تاہم انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف فہرست جاری کرنا کافی نہیں، بلکہ ان غیر قانونی اداروں کو فوری طور پر سیل کیا جائے تاکہ مزید طلبہ کا مستقبل برباد نہ ہو۔


داخلہ لینے سے پہلے 3 باتوں کا خیال رکھیں

  • کیا یونیورسٹی ایچ ای سی سے منظور شدہ ہے؟
  • کیا جس شہر یا علاقے میں کیمپس ہے، اسے ایچ ای سی نے اجازت دی ہے؟
  • کیا متعلقہ پروفیشنل ڈگری (مثلاً لاء، انجینئرنگ وغیرہ) متعلقہ کونسل سے رجسٹرڈ ہے؟